.

شامی حزب اختلاف نے ایرانی امن منصوبہ مسترد کردیا

صدر اسد کو بچانے کے لیے ایران کی مایوس کن کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کی حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل قومی اتحاد نے ایران کی جانب سے ملک میں جاری خونریزی کو روکنے کے لیے پیش کردہ مجوزہ منصوبے کو مسترد کردیا ہے اور اس کو اسد رجیم کو طول دینے کی ایک مایوس کن کوشش قرار دیا ہے۔

حزب اختلاف کے قومی اتحاد نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا کہ''اسد رجیم اور اس کے اتحادی اب وقت گزرنے جانے کے بعد سیاسی اقدامات کا اعلان کررہے ہیں۔ایران کا اقدام بھی ان مایوس کن کوششوں کی ایک مثال ہے اور یہ اسد رجیم کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو بچانے کو ایک کوشش ہے۔

العربیہ کو موصول ہونے والے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ''ایرانی رجیم شام میں برپا ہونے والے انقلاب کو تسلیم کرنے سے انکار کررہا ہے۔اس انقلاب کا مقصد ایک مطلق العنان اور جابر حکومت سے آزادی ہے اور یہ انقلاب مکمل کامیابی سے ہم کنار ہونے کے قریب ہے''۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران نے گذشتہ اتوار کو شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ایک چھے نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا۔اس میں شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے سے متعلق تو کچھ نہیں کہا گیا تھا۔البتہ اس میں مسلح دھڑوں سے اقوام متحدہ کی نگرانی میں فوری طور پر تشدد کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ایرانی منصوبے میں شام پرعاید پابندیاں ختم کرنے ، حکومت اور مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان قومی مذاکرات کے آغاز ،عبوری حکومت کے قیام اور آزادانہ انتخابات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

واضح رہےکہ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک گذشتہ سال مارچ میں پُرامن مظاہروں سے شروع ہوئی تھی مگر اس نے حکومت کی ظالمانہ کارروائیوں کے بعد تشدد کا رُخ اختیار کرلیا اور اب یہ مکمل خانہ جنگی کا روپ دھار چکی ہے۔اس خانہ جنگی میں چوالیس ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں اور لاکھوں اندرون ملک دربدر ہیں یا بے گھر ہوکر پڑوسی ممالک میں مہاجر کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔