.

عراقی وزیر مالیات نے نوری المالکی کے استعفی کا مطالبہ کر دیا

وزیر اعظم کی ملیشیا پر اپنے سٹاف کے اغوا کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے عراق کے حکمران اتحاد 'العراقیہ' سے تعلق رکھنے والے وزیر خزانہ رافع العیساوی کے دفتر پر چھاپے کے بعد وہاں سے ایک سو افراد کو گرفتار کر لیا۔

اس کارروائی کے بعد عراقی سینٹ کے چیئرمین اسامہ النجیفی نے ہنگامی اجلاس منعقد کیا، جس کے بعد وزیر خزانہ نے نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نوری المالکی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

سنی مسلک عراقی وزیر خزانہ العیساوی نے کہا کہ عراقی سربراہ حکومت نوری المالکی وزارت خزانہ کے اغوا شدہ ملازمین کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ نوری المالکی حکومت میں اپنے پارٹنرز کی حفاظت نہیں کر رہے ہیں۔

یہ کارروائی عراقی صدر جلال طالبانی کے برین ہیمرج کے علاج کی خاطر بیرون ملک دورے پر روانگی کے بعد ہوئی۔ یاد رہے کہ جلال الطالبانی کردی ہیں اور اکثر ملک میں کرد، سنی اور شیعہ کیمونیٹیز کے درمیان اختلافات کے حل میں کلیدی کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔

وزیر خزانہ العیساوی نے الزام عاید کیا کہ نوری المالکی ملک کو ایک بعد دوسرے بحران کا شکار کر رہے ہیں۔ مالکی، انتخابات سے پہلے اپنے مدمقابل کو ڈرانے دھمکانے کی پالیسی پر چل رہے ہیں۔ العیساوی کی نیوز کانفرنس میں متعدد دوسرے سیاسی رہنما بھی موجود تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ نوری المالکی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی جائے۔

عراقی وزیر خزانہ کے دفتر پر سیکیورٹی اہلکاروں کے حملے سے ایک برس پہلے عراق کے سنی ملک نائب صدر کو گرفتار کرنے کی کارروائی کی یاد تازہ کر دی۔ مسٹر ہاشمی پر کرائے کے قاتلوں کا نیٹ ورک چلانے کا الزام عاید کیا گیا تھا، جس کے بعد عراقی پارلیمنٹ کے سنی ارکان نے ایوان کا بائیکاٹ کرنا شروع کر دیا اور ہاشمی ملک سے فرار ہو گئے جہاں بعد میں ان کی غیر موجودگی میں انہیں متعدد بار سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔