.

مصر صدر نے پارلیمان کے ایوان بالا کے 90 ارکان نامزد کر دیے

آئینی ریفرینڈم کے دوسرے مرحلے کی پولنگ سے ایک روز قبل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے صدر محمد مرسی نے آئینی ریفرینڈم کے لیے دوسرے مرحلے کی پولنگ سے ایک روز قبل پارلیمان کے ایوان بالا شوریٰ کونسل کے نوے ارکان کو نامزد کر دیا ہے۔

مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی مینا نے جمعہ کو صدر کی جانب سے شوریٰ کونسل کے دوسو ستر میں سے نوے ارکان کی نامزدگی کی اطلاع دی ہے۔ واضح رہے کہ صدر کو موجودہ عبوری آئین کے تحت پارلیمان کے ایوان بالا کے ایک تہائی ارکان کو نامزد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

شوریٰ کونسل کے پاس قانون سازی کے اختیارات نہیں ہیں بلکہ وہ صرف ایک مشاورتی ادارے کا کام کرتی ہے۔ تاہم اگر مصری ووٹر مجوزہ آئین کی ریفرینڈم کے دوسرے مرحلے میں بھی منظوری دے دیتے ہیں تو آیندہ دوماہ میں پارلیمان کے ایوان زیریں کے انتخاب تک شوریٰ کونسل کو قانون سازی کے عارضی طور پر اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔

حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ صدر نے شوریٰ کونسل کی رکنیت کے لیے ان لوگوں کو نامزد کیا ہے جو ان کے حامی اسلام پسندوں کے لیے کسی خطرے کا موجب نہیں بنیں گے۔ کونسل کے دو تہائی ارکان کا اس سال کے آغاز میں انتخاب عمل میں آیا تھا اور ان میں بھی اسلام پسندوں کی تعداد زیادہ ہے۔ مجوزہ آئین کی منظوری کے بعد مصری صدر ایک تہائی کے بجائے صرف دس ارکان کو نامزدگی کرسکیں گے کیونکہ آئین میں صدر کی جانب کونسل کے ارکان کی نامزدگی کا اختیار محدود کر دیا گیا ہے۔