.

عمان میں پہلے لوکل باڈیز الیکشن کے لئے ووٹنگ مکمل

1475 شہری غیر جماعتی انتخابات میں قسمت آزما رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
خلیجی سلطنت عمان میں ہفتے کے روزمنعقد ہونے والے غیر جماعتی لوکل باڈیز کے انتخاب میں ووٹ ڈالے گئے۔ ملک میں ہونے والے اپنی نوعیت کے پہلے انتخابات میں منتخب ہونے والے 192 کونسلروں کو ملکی معاملات سے متعلق فیصلوں کا مکمل اختیار نہیں ہو گا۔



عمان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ووٹ ڈالنے کے اہل 546,000 شہریوں نے انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ملکی میں سیاسی جماعت بنانے کی اجازت نہیں، اس لئے لوکل باڈیز الیکشن میں 1475 آزاد امیدواروں نے قسمت آزمانے کے لئے انتخاب میں شرکت کی۔

عمومی طور پر پرسکون رہنے والی سلطنت میں گزشتہ برس عرب بہاریہ میں اس وقت ہلچل دیکھنے میں آئی جب چند مظاہرین زندگی کے لئے بہتر سہولیات کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ شمالی شہر سوہار میں ایک ایسے ہی احتجاجی مظاہرے میں شریک دو افراد پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں مارے گئے۔

ساٹھ لوکل باڈی کونسلز کے لئے نامزد چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین ہوں گے۔ اس سے قبل صرف دارلحکومت مسقط میں سٹی کونسل ہوتی تھی جس کے تمام ارکان بھی نامزد ہوتے تھے۔

سلطان آف عمان قابوس بن سعید سن 1970ء میں برسراقتدار آ کر مطلق العنان بادشاہت کو نظام حکومت بنایا، تاہم حال ہی میں انہوں نے پارلیمانی انتخابات کی اجازت دی جس میں 46 نشتیں خواتین کے لئے مخصوص ہیں۔

سلطان قابوس کے فرمان کے مطابق ہفتے کو ہونے والے انتخاب کے بعد بننے والی کونسلوں کو انتظامی اختیارات حاصل نہیں ہوں گے تاہم انہیں بلدیاتی سہولیات میں بہتری کی خاطر تجاویز پیش کرنے کی اجازت ہو گی۔

عمان کی مجلس شوری کی تاسیس 1991ء میں قائم کی گئی۔ اسے وزراء کی گوشمالی کے ساتھ حکومت کو معاشرتی اور معاشی معاملات پر حکومت کو مشورہ دینے کا اختیار ہے۔ مجلس شوری کو قانون سازی کا اختیار نہیں اور نہ ہی یہ اسے دفاع، داخلی سلامتی اور خارجہ پالیسی پر لب کشائی کی اجازت ہے۔



سلطنت آف عمان میں ستاون رکنی نامزد ایوان بالا [اپر چیمبر] بھی موجود ہے۔ ملک کی کونسل اپر چیمبر اور مجلس شوری پر مشتمل ہے۔ گزشتہ برس کے مظاہروں کے بعد سلطان آف عمان نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے کونسل آف عمان کو قانون سازی کے محدود اختیارات دینے کی منظوری دی تھی۔