.

طویل عمر کا عالمی ریکارڈ بنانے والی فلسطینی خاتون وفات پا گئیں

مرحومہ کا شناختی کارڈ خلافت عثمانیہ کے دور میں جاری ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
طویل عمر پانا ہر انسان کی تمنا ہوتی ہے لیکن دنیا میں ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جن کی یہ خواہش پوری ہو پاتی ہے۔ انہی خوش قسمتوں میں معمر فلسطینی خاتون مریم حمدان کا شمار بھی ہوتا ہے کہ جنہوں نے معاصر تاریخ میں طویل عمر پانے کا اعزاز حاصل کیا۔ مرحومہ مریم زندگی کی 124 بہاریں دیکھنے اور اس دوران وقوع پذیر ہوئے دنیا کے بڑے انقلابی واقعات کو سینے میں سموئے منوں مٹی تلے جا سوئیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حاجن مریم حمدان عماش سنہ 1888ء میں قیام اسرائیل سے بھی ساٹھ سال قبل مقبوضہ فلسطینی شہر حیفاء کے جسر الزرقاء قصبے میں پیدا ہوئی۔ پہلا قومی شناختی کارڈ خلافت عثمانیہ کے دور میں بنا۔ عمر کے ایک سو چوبیس برسوں میں مریم بی بی نے کئی بار حج کی سعادت بھی حاصل کی۔ مریم حمدان کے شناختی پر درج تاریخ پیدائش کو سامنے رکھا جائے تو وہ معاصر تاریخ کی سب سے طویل العمر خاتون ہیں۔ فرانس کی جین کالمور مریم کے بعد دوسری معمر ترین خاتون قرار دی جا سکتی ہیں کیونکہ جین نے 122 سال کی زندگی پائی لیکن معاصر تاریخ میں اب تک طویل عمر پانے والی خواتین میں پہلا نمبر جین کالمور ہی کا رہا ہے جس کا ریکارڈ فلسطینی مریم حمدان عماش نے توڑا۔

وفات سے کچھ عرصہ قبل مریم نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’’مُجھے میری حقیقی تاریخ پیدائش کا علم تو نہیں، البتہ جب میں سن شعور کو پہنچی تو اس دور کے حکومتی افسروں میں سے کچھ کے نام مجھے یاد ہیں۔ جب میں حیفاء کے قصبے جسر الزرقاء میں آئی تو میری عمر کوئی دس برس ہو گی۔ تب گاؤں میں صرف ایک یا دو گھر تھے‘‘۔

پیرانہ سالی کے باوجود وفات تک مریم نہ صرف چلتی پھرتی رہی بلکہ اس کی بینائی، دانت اور یاداشت سب برقرار تھے۔ البتہ قوت سماعت قدرے متاثر ہوئی تھی۔ مریم کو اپنے بچپن کے دور کی باتیں بھی یاد تھیں جنہیں وہ اپنے پوتے پوتیوں، جن کی تعداد 350 ہے، کو سنایا کرتی تھی۔ اس کے اپنے پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں جو خود اب بوڑھے ہو چکے ہیں۔ مریم کا خاندان ہر سال بڑے طمطراق کے ساتھ اس کی سالگرہ کا اہتمام کرتا جس میں اہل محلہ اور عزیز و اقارب کے علاوہ دور دراز سے لوگ شرکت کرتے تھے۔ پیرانہ سالی نے مریم کو روزانہ ورزش سے نہیں روکا۔ شائد اس کی صحت اور طویل عمری کا ایک راز اس کی روزانہ کی ورزش بھی تھی، جو وفات تک بلا ناغہ جاری رہی۔

اکاون سالہ پوتے ماجد نے بتایا کہ اس کی دادی کو تقریباً تین سال قبل گردوں کا مرض لاحق ہوا اور وہ زندگی میں پہلی مرتبہ بیماری کی وجہ سے اسپتال داخل ہوئی۔ ماجد نے بتایا کہ اس کے والد کی عمر 81 برس ہے جو دادی سے زیادہ کمزور دکھائی دیتے ہیں۔

معاصر تاریخ کی چشم دیدہ

مریم حمدان عماش کے پاس اس کی تاریخ پیدائش کے صرف دو ہی دستاویزی ثبوت تھے، ایک اس کا شناختی کارڈ تھا دوسرا اس کا پاسپورٹ تھا۔ دونوں پر اس کی تاریخ پیدائش 1888ء درج تھی۔ یوں اس نے سوا صدی کی اس زندگی میں دنیا میں وقوع پذیر ہوتے کئی انقلابات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ وہ عرب ملکوں میں برپا ہونے والے انقلابات اور فلسطین میں قیام اسرائیل کی بھی چشم دید گواہ تھی۔

اپنے انٹرویو میں مریم نے بتایا تھا کہ اس نے دو شادیاں کیں اور دونوں شوہروں سے اس کے ہاں اولاد ہوئی۔ دونوں شوہر انتقال کر گئے۔ نامہ نگار نے ازارہ تفنن پوچھا کہ ’’تو پھرتیسری شادی کی خواہش پیدا نہیں ہوئی؟‘‘ مریم نے جوابا اپنے الٹے ہاتھ کا بوسہ لیتے ہوئے اسی مزاحیہ لہجے میں ’’ہاں‘‘ کا اشارہ کیا تاہم اس کا کہنا تھا کہ اللہ نے مجھے سعادت کی زندگی عطا کی ہے میں اپنے بیٹے بیٹیوں اور پوتوں اور نواسوں کے ساتھ رہ کر خوش ہوں۔

فلسطین کی معمر ترین خاتون کے انتقال کی خبر ایک ایسے وقت شہ سرخیوں کا موضوع بنی ہے کہ جب جاپان کے طویل العمر شخص جیرومون کیمورا کی 115 سالہ زندگی کو عالمی ریکارڈ کے طور پر گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج ہوئے ایک ہفتہ ہوا ہے۔ اسی عمر کی ایک امریکی خاتون نے بھی حال ہی میں انتقال کیا، جسے اس سال کی طویل العمر خاتون قرار دیا جا رہا تھا۔ اللہ کی کتاب میں مریم حمدان کا نام زندوں میں تو نہیں رہا ہے دیکھنا یہ ہے کہ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی اس کا نام درج ہو گا یا نہیں۔