.

عالمی ایلچی الاخضر الابراہیمی کی بشار الاسد سے ملاقات کے لیے شام آمد

حماہ میں گولہ باری میں بیسیوں افراد ہلاک اور زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی الاخضر الابراہیمی لبنان کی سرحد سے شامی علاقے میں داخل ہو گئے ہیں۔وہ دمشق جا رہے ہیں جہاں وہ صدر بشار الاسد سے ملاقات کریں گے۔

لبنان کے ایک سرحدی اہلکار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ''عالمی ایلچی اتوار کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر دوبجے سرحد عبور کرکے شام کے علاقے میں داخل ہوئے تھے''۔ اس سے پہلے بذریعہ طیارہ ان کی بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پرآمد کی اطلاع سامنے آئی تھی۔

عالمی ایلچی شامی صدر سے ملک میں جاری تشدد کے خاتمے اور انتقال اقتدار سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ وہ شام میں جاری خونریزی کے خاتمے کے لیے کوئی نیا فارمولا لے کر آئے ہیں۔انیس اکتوبر کے بعد ان کا شام کا یہ دوسرا دورہ ہے۔

انھوں نے عیدالاضحیٰ سے چند روز قبل شام کا پانچ روزہ دورہ کیا تھا اور صدر بشار الاسد اور دوسرے عہدے داروں سے عید کے موقع پرعارضی جنگ بندی کے لیے بات چیت کی تھی لیکن شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کے باوجود خونریزی کا سلسلہ جاری رہا تھا۔

درایں اثناء شام کے وزیر اطلاعات عمران الزوبی نے دمشق میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں الاخضرالابراہیمی کے دمشق کے دورے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔

گذشتہ روز روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا یہ بیان سامنے آیا تھا کہ اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی اختتام سال سے قبل روس کا دورہ کریں گے۔تاہم انھوں نے عالمی ایلچی کے دورے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی۔

ادھر شام کے وسطی شہر حماہ کے نواحی علاقوں میں سرکاری فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان جاری لڑائی میں گولہ باری سے بیسیوں افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے ہیں۔شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان دارالحکومت دمشق اور اس کے نواحی علاقوں میں بھی لڑائی جاری ہے۔

واضح رہے کہ شام میں گذشتہ سال مارچ سے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران تشدد کے واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد تینتالیس ہزار سے تجاوز کر چکی ہےاور اب شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی میں شدت کے بعد روزانہ قریباً ڈیڑھ دو سو افراد مارے جا رہے ہیں۔