.

مصرریفرینڈم کا دوسرا مرحلہ،دستور کے حق میں 71فی صد ووٹ

اسلامی پسندوں کے مرتب کردہ آئین کی کثرت رائے سے منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر میں منعقدہ ریفرینڈم کے دوسرے اور آخری مرحلہ کے سامنے آنے والے غیر حتمی نتائج کے مطابق ووٹروں کی اکثریت نے نئے آئین کے حق میں اپنی رائے دی ہے۔

اخوان المسلمون کے ایک عہدیدار نے غیر سرکاری نتائج کے حوالے سے بتایا کہ دوسرے مرحلے میں 64 فیصد شہریوں نے نئے دستور کی حمایت میں ووٹ دیا ہے۔

ادھر مصری اپوزیشن کی جماعتوں پر مشتمل نیشنل سالویشن فرنٹ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ان کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق دستور میں ترمیم کے حق میں زیادہ ووٹ ڈالے گئے ہیں حالانکہ اپوزیشن نے ریفرینڈم ناکام بنانے کے لئے بھرپور مہم چلائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام پسند اس وقت ملک کے حکمران ہیں اور یہی لوگ انتخابی عمل کے نگران بھی تھے۔ لوگوں میں اپنا اثر و رسوخ بھی رکھتے ہیں، ایسے حالات میں ریفرینڈم میں 'منظور ہے' کے علاوہ کسی اور نتیجے کی کیونکر توقع کی جا سکتی تھی۔

ہفتے کی رات پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ریفرینڈم میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی شروع کردی گئی۔ ساحلی گورنری مرسی مطروح سے موصول ہونے والے نتائج میں 91.8 فیصد شہریوں نے دستور کے حق جبکہ 8.2 نے مخالفت میں ووٹ ڈالے۔

اسماعیلیہ شہر کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق 179620 ووٹروں یعنی 70 فیصد نے نئے دستور کے بارے میں 'ہاں' جبکہ 76905 یعنی 30 فیصد نے 'ناں' میں ووٹ دیا۔ المنیا میں بھی 564 پولنگ اسٹشنز کے نتائج موصول ہو چکے ہیں جن میں 84 فیصد شہریوں نے نئی دستور ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالا ہے۔

حسنی مبارک کی آبائی گورنری المنوفیہ میں دستوری ترمیم کے خلاف 382491 جبکہ موافقت میں 363894 نے ووٹ ڈالے۔ اس طرح اس اہم حلقے میں بھی دستوری ترمیم کے حق میں 22 ہزار ووٹ زیادہ ڈالے گئے۔ الوادی الجدید گورنری میں 87.2 نے دستوری ترمیم کے حق میں 'ہاں' جبکہ 12.8 نے 'ناں' کا ووٹ ڈالا۔

غیر سرکاری نتائج کے مطابق گزشتہ ہفتے ہونے والے ریفرینڈم کے پہلے مرحلے میں 57% شہریوں نے آئین کے حق میں ووٹ دیا۔ ججوں کی بڑی تعداد نے ریفرینڈم کی نگرانی کرنے سے معذرت کر لی تھی اس لئے اسے دو مرحلوں میں مکمل کیا گیا۔

یاد رہے کہ ریفرینڈم کا پہلا مرحلہ قاہرہ، اسکندریہ، الشرقیہ، الدقھلیہ، الغربیہ، اسیود، سوہاج، اسوام، شمال سینا اور جنوبی سینا کے علاقوں میں گذشتہ ہفتے منعقد ہواتھا۔