.

مصر اپوزیشن کا فراڈ ریفرینڈم نتائج کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان

63 فی صد ووٹروں نے نئے آئین کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر میں حزب اختلاف نے نئے دستور کی منظوری کے لیے منعقدہ ریفرینڈم کے نتائج کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس نے دعویٰ کیا ہے کہ پولنگ کے دوران فراڈ اور بے ضابطگیوں کا ارتکاب کیا گیا ہے۔

حزب اختلاف کے اتحاد نیشنل سالویشن فرنٹ کے ایک رکن عبدالغافر شکر نے اتوار کو قاہرہ میں نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''ریفرینڈم شاہراہ کا اختتام نہیں بلکہ یہ تو صرف ایک جنگ ہے اور ہم مصری عوام کے لیے جنگ جاری رکھیں گے''۔

فرنٹ کے ایک اور رکن عمرو حمزاوی نے کہا کہ ''ہم الیکشن کمیشن سے بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے رجوع کر رہے ہیں اور اس سے مطالبہ کریں گے کہ وہ غیر سرکاری نتائج کے اعلان سے قبل ان عذر داریوں کا جائزہ لے''۔

حزب اختلاف نے یہ اعلان آئینی ریفرینڈم کے لیے دوسرے مرحلے کی پولنگ سے ایک روز اور غیر حتمی نتائج سامنے آنے کے چند گھنٹے بعد کیا ہے۔صدر محمد مرسی کی پشتی بان جماعت اخوان المسلمون نے غیر سرکاری نتائج کی بنیاد پر ریفرینڈم میں کامیابی کا اعلان کیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ چونسٹھ فی صد ووٹروں نے نئے آئین کی منظوری دے دی ہے۔

مصر کے الیکٹورل کمیشن کی جانب سے آئینی ریفرینڈم کے سرکاری نتائج کا اعلان سوموار کو کیا جا رہا ہے۔ اگر اخوان کی جانب سے جاری کردہ غیر سرکاری نتائج کی تصدیق ہو جاتی ہے تو پھر منظور شدہ نئے آئین کے تحت آیندہ دوماہ میں پارلیمانی انتخابات کرائے جائیں گے۔

قبل ازیں اتوار کو اخوان المسلمون کے ایک عہدے دار نے ملک بھر میں پولنگ اسٹیشنوں میں موجود اپنے نمائندوں کے حوالے سے بتایا تھا کہ ''نئے آئین پر ریفرینڈم کے دوسرے مرحلے میں اکہتر فی صد رائے دہندگان نے ہاں میں ووٹ دیا ہے اور آئین کے حق میں دونوں مراحل کا مجموعی نتیجہ تریسٹھ اعشاریہ آٹھ فی صد رہا ہے''۔ حزب اختلاف کے ایک عہدے دار نے بھی برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ووٹروں کی اکثریت نے آئین کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

انسانی حقوق کے گروپوں نے دوسرے مرحلے کی پولنگ کے دوران بعض بے ضابطگیوں کی شکایات کی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹ ڈالنے کا عمل تاخیر سے شروع ہوا تھا اور اسلامی جماعتوں کے کارکنان غیر قانونی طور پر بعض پولنگ مراکز پر آئین کے حق میں مہم چلاتے رہے تھے اور وہ لوگوں کو ''ہاں'' پر مہر لگانے کی ترغیب دیتے رہے تھے۔انھوں نے ووٹروں کی رجسٹریشن کے عمل میں بھی بے ضابطگیوں کی شکایات ہیں۔

لیکن دو مراحل میں ریفرینڈم کی نگرانی کرنے والی کمیٹی کا کہنا ہے کہ پندرہ دسمبر کو پہلے مرحلے کی پولنگ کے دوران کوئی بڑی بے ضابطگی رو نما نہیں ہوئی تھی اور دوسرے مرحلے میں بھی ایسا کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا۔مصر میں کل پانچ کروڑ دس لاکھ رجسٹرڈ ووٹر تھے۔ ان میں سے ڈھائی کروڑ دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔ اس مرحلے میں اسی لاکھ ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے اور ووٹ ڈالنے کی شرح تیس فی صد رہی ہے۔

ریفرینڈم کے پہلے مرحلے میں ڈھائی کروڑ میں سے بتیس فی صد ووٹروں نے اپنا حق رائے استعمال کیا تھا اور ان میں سے چھپن فی صد نے آئین کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ چوالیس فی صد نے مخالفت کی تھی۔ اس طرح دونوں مراحل میں تریسٹھ فی صد سے زیادہ ووٹروں نے آئین کے حق میں ووٹ دے کر اس کی منظوری دی ہے۔