.

دمشق الابراہیمی کا بشار الاسد سے شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال

شامی صدر کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کریں گے: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی الاخضر الابراہیمی نے دمشق میں صدر بشار الاسد سے ملاقات کی ہے اور ان سے شام کی ابتر صورت حال کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

الاخضر الابراہیمی نے سوموار کو دمشق میں اپنی جائے قیام ہوٹل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ''میں نے صدر بشار الاسد سے ملاقات میں مستقبل میں کیے جانے والے بعض اقدامات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے''۔وہ گذشتہ روز لبنان کے راستے سے شام پہنچے تھے۔

انھوں نے کہا کہ شامی بحران ان کے لیے ''ہمیشہ''تشویش کا سبب رہا ہے۔تاہم انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام فریق بحران کے ایک ایسے حل کے حق میں ہوں گے جس سے تمام شامیوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جا سکے۔

الجزائر سے تعلق رکھنے والے تجربے کار سفارت کار نے کہا کہ ''بشارالاسد نے ملک کی صورت حال کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر کا اظہار کیا ہے اور میں نے انھیں خطے اور اس سے باہر مختلف لیڈروں سے ہونے والی اپنے ملاقاتوں کے بارے میں بتایا ہے''۔

عالمی ایلچی کی شامی صدر سے ملاقات کی اس خبر کے ساتھ روسی وزیر خارجہ کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ اگر شامی صدر نے اپنے مخالفین کے خلاف کیمیائی گیس کا استعمال کیا تو یہ اقدام ان کی سیاسی خودکشی ہو گا۔

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے انگریزی زبان میں نشریات پیش کرنے والے سرکاری ٹی وی آر ٹی کے ساتھ انٹرویو میں کہا کہ بشارالاسد متعدد مرتبہ ماسکو کو ایسے ہتھیار استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی کراچکے ہیں۔انھوں نے کہا کہ میں اس بات میں یقین نہیں رکھتا کہ شام کیمیائی ہتھیار استعمال کرے گا۔اگر اس نے ایسا کیا تو یہ سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا۔

حماہ حملےکا الزام

شامی صدر اپنے مخالفین پر خطرناک ہتھیار تو نہیں آزما رہے لیکن ان کی فوج نے باغیوں اور عام شہریوں کے خلاف فضائی قوت کا استعمال جاری رکھا ہوا ہے۔گذشتہ روز وسطی صوبہ حماہ میں شامی فوج کے ایک بیکری پر فضائی حملے میں کم سے کم دو سو شہری مارے گئے تھے لیکن شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے ایک مسلح دہشت گرد گروپ پر اس حملے کا الزام عاید کیا ہے۔

سانا کا کہنا ہے کہ ''ایک مسلح دہشت گرد گروپ نے حلفایا کے قصبے میں مقامی آبادی کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور بہت سی خواتین اور بچوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ شامی فوج نے مسلح گروپ کے حملے کے دوران مداخلت کی تھی اور اس نے بہت سے دہشت گردوں کو ہلاک یا زخمی کر دیا ہے''۔

سانا کی رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں نے عالمی ایلچی الاخضر الابراہیمی کی آمد کے موقع پر ویڈیو بنالی تاکہ شامی فوج پر و اقعے کا الزام عاید کیا جا سکے۔ شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق حملے میں کم سے کم پچاس افراد زخمی ہو گئے تھے اور ان میں بیشتر کی حالت نازک ہے۔

آبزرویٹری کی جانب سے اتوار کو انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو کے مطابق روسی ساختہ مِگ جیٹ طیارے کی بیکری پر بمباری سے عمارت تباہ ہو گئی اوراس سے شاہراہ پر بھی ایک گہرا گڑھا بن گیا تھا۔اس حملے میں بیکری کے باہر بریڈ لینے کے انتظار میں کھڑے نہتے شہری نشانہ بن گئے تھے۔اس ویڈیو میں ایک کیمرامین چلاتے ہوئے کِہہ رہا ہے کہ دنیا شامی فوج کے حلفایا میں قتل عام کو دیکھے۔

ویڈیو میں سڑک پر مرنے والوں کی لاشیں پڑی ہیں اور شہری اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔واضح رہے کہ شامی فوج کے جنگی طیاروں نے چند ماہ قبل اسی طرح شمالی شہر حلب میں بھی بیکریوں پر حملے کیے تھے اور سولہ اگست کو حلب کے علاقے قادی عسکر میں بریڈ لینے کے لیے قطار میں کھڑے شہریوں پر حملے میں ساٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔