.

سعودی عرب ایک مضبوط اور ٹھوس خلیج یونین کا خواہاں

جی سی سی کی یونین میں تبدیلی کے لیے اعلامیہ جلد متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے بحرین میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی )کے اجلاس میں اس امید کا اظہار کیا ہے کہ تنظیم کو خلیج یونین میں تبدیل کرنے کے لیے اعلامیے پرجلد اتفاق رائے ہوجائے گا۔

شہزادہ سلمان نے منامہ میں خلیج تعاون کونسل کے دو روزہ اجلاس کے موقع پر کہا کہ ''سعودی عرب ایک مضبوط اور ٹھوس یونین چاہتا ہے جس کا دفاع اور سکیورٹی نظام مشترک ہو''۔انھوں نے کہا کہ تنظیم کی یونین میں تبدیلی سے رکن ممالک کے عوام کی فلاح وبہبود میں مدد ملے گی۔

منامہ میں جی سی سی کا دوروزہ اجلاس آج سوموار کو شروع ہوا اور بحرینی وزیرخارجہ شیخ خالد بن احمد بن محمد الخلیفہ اس کی صدارت کررہے ہیں۔اجلاس میں جی سی سی کے رکن چھے ممالک کے وزرائے خارجہ اور دوسرے اعلیٰ عہدے دار شریک ہیں۔

شیخ خالد نے اجلاس سے قبل ایک قطری روزنامے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''دوروزہ اجلاس میں فوجی تعاون ،ماحولیاتی تحفظ اور معیشت کے شعبے میں اتحاد کے لیے اقدامات پر غور کیا جائے گا''۔انھوں نے کہا کہ بات چیت کا مرکزی موضوع جی سی سی کے لیے ایک مربوط اقتصادی یونٹ کا قیام ہوگا۔

بحرین کی جانب سے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اس اجلاس میں چھے خلیجی ریاستوں پر مشتمل یونین کے قیام کا اعلان نہیں کیا جائے گا۔مجوزہ خلیج یونین موجودہ جی سی سی کی جگہ لے گی ۔تجزیہ کاروں اور خطے کے حکام کا کہنا ہے اس سے تمام رکن ممالک کو مزید قریب آنے کا موقع ملے گا۔

اجلاس کے لیے مرتب کردہ ایجنڈے میں اقتصادی سمجھوتوں پر جلد عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ایجنڈے میں شام میں گذشتہ بائیس ماہ سے جاری خونریزی کا موضوع سرفہرست ہے۔

واضح رہے کہ جی سی سی کے رکن ممالک بحرین ، کویت، اومان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے نومبر شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد کو شامی عوام کے حقیقی نمائندہ کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔تنظیم کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف ضیانی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ شامی قومی اتحاد کو تسلیم کرنے سے خانہ جنگی کا شکار ملک میں انتقال اقتدار کے عمل کو تیز کرنے میں مدد ملے گی۔