.

شامی وزارت خارجہ کے ترجمان پراسرار طور پر لاپتا یا اغوا ؟

جہاد مقدسی کی اچانک روپوشی معما بن گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی وزارت خارجہ کے سابق ترجمان جہاد مقدسی کے پُراسرار طور پر لاپتا ہونے کا معما بیس ،پچیس روز گزر جانے کے باوجود حل نہیں ہوسکا اور ان کے اچانک روپوش ہونے کے بارے میں ابھی تک کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔

جہاد مقدسی کے بارے میں ایک نئی اطلاع یہ سامنے آئی ہے کہ انھیں لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے اغوا کر لیا تھا اور اس کے بعد انھیں شامی حکومت کے حوالے کردیا تھا۔ان کے حوالے سے دمشق حکومت کی جانب سے یہ بیانات بھی سامنے آئے ہیں کہ وہ تین ماہ کی رخصت پر ہیں۔

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں غائب ہونے کے چار روز بعد تین دسمبر کو حزب اللہ کے المنار ٹیلی ویژن اسٹیشن نے یہ اطلاع دی تھی کہ جہاد مقدسی کو حکومت کے موقف کے منافی بیانات جاری کرنے پر برطرف کردیا گیا ہے۔

شامی صدر بشار الاسد کی حکومت مبینہ طور پر جہاد مقدسی کے ایک نیوزکانفرنس کے دوران کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق بیان سے نالاں تھی۔انھوں نے کہا تھا کہ شامی رجیم شہریوں کے خلاف کبھی کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کرے گا اور صرف بیرونی مداخلت کی صورت ہی میں ان ہتھیاروں کو استعمال کیا جائے گا۔جہاد مقدسی نے دراصل اس بیان کے ذریعے پہلی مرتبہ اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ دمشق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیارموجود ہیں۔

پُراسراریت

جہاد مقدسی شامی صدر بشارالاسد کی حکومت میں عیسائی اقلیت سے تعلق رکھنے والے سب سے سنئیر عہدے دار تھے۔دسمبر کے پہلے ہفتے میں ان کے غائب ہونے کی اطلاع منظرعام پر آنے کے بعد شامی حکومت نے کہا تھا کہ جہاد مقدسی کو برطرف کردیا گیا ہے اور اس حوالے سے ایک بیان جاری کیا جائے گا لیکن اس نے ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیا تھا۔

ان کے قریبی ذرائع کے حوالے سے تب یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ وہ دمشق سے بیروت چلے گئے ہیں جہاں سے وہ لندن جائیں گے اوروہاں نیوزکانفرنس سے خطاب کریں گے لیکن ان کے بیروت پہنچنے کا تو سراغ ملا تھا،اس کے بعد وہ کہاں چلے گئے،اس کی ابھی تک کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے۔

لیکن چار دسمبر کو برطانوی حکام نے اخبار گارجین کو بتایا تھا کہ جہاد مقدسی لندن نہیں پہنچے۔بعد میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ وہ امریکا جارہے ہیں لیکن واشنگٹن نے ان اطلاعات کو مسترد کردیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ ''ہمارے خیال میں جہاد مقدسی لندن میں ہیں لیکن ہم اس کی تصدیق نہیں کرسکتے اور نہ ان کے امریکی سفارت خانے میں پہنچنے کے بارے میں آگاہ ہیں''۔

اس دوران یہ اطلاع بھی سامنے آئی تھی کہ دمشق کے علاقے المزہ میں جہاد مقدسی کے مکان کو نذرآتش کردیا گیا ہے۔اس واقعہ سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ انھوں نے صدر بشارالاسد کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور منحرف ہوکر ملک سے کہیں اور چلے گئے ہیں۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط نے حزب اختلاف کے ذرائع کے حوالے سے لکھا تھا کہ جہاد مقدسی کے منحرف ہونے کی اطلاع منظرعام پر آنے کے فوری بعد صدر اسد کے وفاداروں نے انتقام میں ان کا مکان نذرآتش کردیا تھا۔

جہاد مقدسی کو ایک وقت میں بشارالاسد کا ''جیمزبانڈ'' قرار دیا جاتا تھا لیکن ان کے لاپتا ہونے کے بعد اب شامی حکومت انھیں غدار قرار دے رہی ہے اور حزب اختلاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے مکان کو جلانے کا ایک مقصد عیسائی اقلیت کو ڈرانا دھمکانا ہوسکتا ہے کیونکہ انھوں نے ابھی تک صدر اسد کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک میں شرکت نہیں کی اور وہ اسدرجیم کی حمایت کررہے ہیں۔

ان سے قریبی تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا تھا کہ وہ کافی عرصہ پہلے شام چھوڑنا چاہتے تھے لیکن وہ اپنے والدین کی دمشق سے بیروت میں محفوظ منتقلی چاہتے تھے اور وہ اپنے والدین کے بیروت منتقل ہونے کے بعد ہرہفتے ان سے ملنے کے لیے جایا کرتے تھے۔

جہاد مقدسی روانی سے انگریزی بولتے ہیں اور وہ پیشہ ور ابلاغی ماہر ہیں۔انھیں مارچ 2011ء میں شامی صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک کے آغاز کے بعد وزارت خارجہ کا ترجمان مقرر کیا گیا تھا۔

وہ دمشق میں نیوزکانفرنسوں میں صدر بشارالاسد کی عوامی مزاحمتی تحریک کے خلاف کارروائیوں کا دفاع کرتے اور شامی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شہریوں کے قتل عام کی تردید کرتے رہے تھے لیکن وہ نومبر کے دوران میڈیا پر نمودار نہیں ہوئے تھے۔اس سے یہ قیاس آرائی کی گئی تھی کہ انھیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے یا وہ خود الگ ہوکر کہیں روپوش ہو گئے ہیں۔