.

اسرائیل میں پولیٹیکل کامیڈی شوز سیاست دانوں کے لیے سوہان روح

مزاحیہ تمثیل کاری سے عوامی موڈ بدلنے لگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ذرائع ابلاغ عوامی شعور بیدار کرنے کے ساتھ انتخابی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ اسرائیل میں الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کے ساتھ پولیٹکل کامیڈی ڈرامے بھی ملکی سیاست اور عوامی مزاج میں تبدیلی کا باعث بن رہے ہیں۔

ان دنوں اسرائیلی پارلیمان [کنیسٹ] میں یہ بحث جاری ہے کہ ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے سیاسی کامیڈی شوز مختلف معروف سیاست دانوں کے ووٹ بنک پر منفی اور مثبت دونوں طرح کے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ عوام میں مقبول پولیٹکل ٹاک شوز سیاست دانوں کے رویوں اور ان کے سیاسی بیانات کی اس انداز میں منظر کشی کرتے ہیں کہ ناظرین ان کے بارے میں اپنی رائے بدلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

سیاسی موضوعات اور ملکی سیاست کو ہلکے پھلکے انداز میں پیش کرنے پر کئی کامیڈی پروگرام مقبول سیاسی ٹاک شوز پر بھی عوامی مقبولیت کے اعتبار سے سبقت لے گئے ہیں۔ ان کامیڈی پروگراموں کی عوامی مقبولیت سیاست دانوں کے لیے سوہان روح بنی ہوئی ہے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ ان کے مزاحیہ تذکرے مبادا انہیں عوامی حمایت سے محروم نہ کر دیں۔

مؤقر عبرانی اخبار 'معاریف' کے مطابق بیت المقدس میں اسرائیل کی عبرانی اور حیفا یونیورسٹیوں کے ماہرین بھی ان دنوں ان کامیڈی شوز کے عوام بالخصوص انتخابات کے دوران ووٹروں کے موڈ پر اثرات کے حوالے سے بحث وتمحیص کر رہے ہیں۔ ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ پولیٹیکل کامیڈی ڈرامے نہ صرف عوام میں تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں بلکہ ان کی پیشکش کا انداز ووٹ کی پرچی اور ایک ووٹر کے انتخاب پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ کئی پسندیدہ لیڈر ناپسندیدہ اور غیر مقبول مقبولیت کی سیڑھیاں چڑھتے دکھائی دیتے ہیں۔

اسرائیل میں بائیس جنوری 2013ء کے پارلیمانی انتخابات کو تین ہفتے رہ گئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کنیسٹ کے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار اخبارات اور سوشل میڈیا کو بھی اپنی انتخابی مہمات میں استعمال کرتے ہیں لیکن لوگوں میں مقبولیت کی وجہ سے کامیڈی پروگرامات ہی حتمی طور پر ووٹروں کا رجحان متعین کریں گے کیونکہ اسرائیل میں اخبار کے مطالعے کا رحجان کم ہو رہا ہے اور کامیڈی پروگرام لوگ گھنٹوں دیکھتے رہتے ہیں۔