.

جی سی سی ممالک کا مشترکہ فوجی کمان کے قیام پر اتفاق

عالمی برداری سے شام میں جاری خونریزی رکوانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک نے منامہ میں اپنے سربراہ اجلاس میں مشترکہ فوجی کمان کے قیام سے اتفاق کیا ہے اور مشرق وسطیٰ میں جاری بحرانوں کے پیش نظر قریبی معاشی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

جی سی سی کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف الزیانی نے منامہ میں دوروزہ اجلاس کے بعد جاری کردہ حتمی اعلامیے میں بتایا ہے کہ تنظیم کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ فوجی کمان کے قیام سے اتفاق کیا ہے اور یہ خلیجی یونین کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

اعلامیے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خلیجی ممالک میں مداخلت کا سلسلہ بند کرے۔ جی سی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ شام میں عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں اور قتل عام کو جلد بند کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

بحرین کے شاہ اور کانفرنس کے میزبان شاہ حمد آل خلیفہ نے جی سی سی سے مطالبہ کیا کہ وہ رکن ممالک کو ایک سکیورٹی چھتری مہیا کرے۔انھوں نے تنظیم کی رکن چھے ریاستوں کے درمیان قریبی اقتصادی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الصباح نے شام میں خانہ جنگی سے متاثرہ افراد کے لیے انسانی امداد مہیا کرنے کا مطالبہ کیا اور ایران پر زوردیا کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک سے پُرامن انداز میں تمام تصفیہ طلب امور کو طے کرے۔ انھوں نے خاص طور پر متحدہ عرب امارات کے ساتھ ایران کے تین جزائر کی ملکیت کے تنازعے کو طے کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انھوں نے آیندہ ماہ جنوری کے آخر میں اقوام متحدہ کی درخواست پر شامی تنازعے سے متاثرہ شہریوں کے لیے ایک امدادی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا۔

درایں اثناء متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید الناہیان نے العربیہ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ جی سی سی کو ایران کی جوہری سرگرمیوں اور خاص طور پر بوشہر پلانٹ پر تشویش ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام میں عدم شفافیت کی وجہ سے اس کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا ہوئے ہیں کہ آیا وہ واقعی پُرامن مقاصد کے لیے ہے یا نہیں۔

بحرین کے وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد آل خلیفہ کے بہ قول دو روزہ سربراہ اجلاس میں خلیج کے اتحاد کو مضبوط بنانے، سیاست، معیشت، دفاع، سکیورٹی اور ثقافت کے شعبوں میں باہمی تعاون کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے سوموار کو جی سی سی کے اجلاس کے پہلے روز اس امید کا اظہار کیا تھا کہ تنظیم کو خلیج یونین میں تبدیل کرنے کے لیے اعلامیے پرجلد اتفاق رائے ہوجائے گا۔انھوں نے کہا کہ ''سعودی عرب ایک مضبوط اور ٹھوس یونین چاہتا ہے جس کا دفاع اور سکیورٹی نظام مشترک ہو''۔ انھوں نے کہا کہ تنظیم کی یونین میں تبدیلی سے رکن ممالک کے عوام کی فلاح وبہبود میں مدد ملے گی۔

تاہم بحرین کی جانب سے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اس اجلاس میں چھے خلیجی ریاستوں پر مشتمل یونین کے قیام کا اعلان نہیں کیا جائے گا۔ مجوزہ خلیج یونین موجودہ جی سی سی کی جگہ لے گی ۔تجزیہ کاروں اور خطے کے حکام کا کہنا ہے اس سے تمام رکن ممالک کو مزید قریب آنے کا موقع ملے گا۔

اجلاس میں شام میں گذشتہ بائیس ماہ سے جاری خونریزی کا موضوع سرفہرست رہا ہے۔ واضح رہے کہ جی سی سی کے رکن ممالک بحرین، کویت، اومان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے نومبر میں شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد کو شامی عوام کے حقیقی نمائندہ کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تنظیم کے سیکرٹری جنرل عبداللطیف الزیانی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ شامی قومی اتحاد کو تسلیم کرنے سے خانہ جنگی کا شکار ملک میں انتقال اقتدار کے عمل کو تیز کرنے میں مدد ملے گی۔