.

دمشق الاخضر الابراہیمی کی شامی حزب اختلاف کے وفد سے ملاقات

صدر بشار الاسد کی حکومت کی اجازت سے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی الاخضر الابراہیمی نے دمشق میں منگل کو شامی حزب اختلاف کے تین گروپوں کے وفد سے ملاقات کی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی اطلاع کے مطابق شامی حزب اختلاف کے ایک گروپ قومی رابطہ کمیٹی برائے جمہوری تبدیلی کے سربراہ حسن عبدالعظیم کی قیادت میں چھے رکنی وفد نے دمشق میں الاخضر الابراہیمی سے ان کے ہوٹل میں ملاقات کی اور ان سے شام کی صورت حال کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔

شامی حزب اختلاف کے اس گروپ کو صدر بشار الاسد کی حکومت نے عالمی ایلچی سے ملاقات کی اجازت دی تھی۔ اس گروپ میں عرب قوم پرست، کرد، سوشلسٹ اور مارکسسٹ شامل ہیں۔ وفد میں تضامون پارٹی کے عہدے دار محمد ابو قاسم اور بسام تقی الدین بھی شامل تھے۔

قومی رابطہ کمیٹی برائے جمہوری تبدیلی کے عہدے داروں کے روس کے ساتھ قریبی تعلقات استوار ہیں اور اس نے شام میں غیر ملکی فوجی مداخلت کی بھی مخالفت کی تھی۔ یہ شامی حزب اختلاف کے حال ہی میں تشکیل شدہ قومی اتحاد میں بھی شامل نہیں ہے۔

الاخضر الابراہیمی نے گذشتہ روز صدر بشار الاسد سے ملاقات کی تھی اور اس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ''میں نے صدر بشار الاسد سے ملاقات میں مستقبل میں کیے جانے والے بعض اقدامات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے''۔ وہ اتوار کو لبنان کے راستے سے شام پہنچے تھے۔

انھوں نے کہا کہ شامی بحران ان کے لیے ''ہمیشہ''تشویش کا سبب رہا ہے۔ تاہم انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام فریق بحران کے ایک ایسے حل کے حق میں ہوں گے جس سے تمام شامیوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جا سکے۔

الجزائر سے تعلق رکھنے والے تجربے کار سفارت کار نے کہا کہ ''بشار الاسد نے ملک کی صورت حال کے حوالے سے اپنے نقطہ نظر کا اظہار کیا اور میں نے انھیں خطے اور اس سے باہر مختلف لیڈروں سے ہونے والی اپنے ملاقاتوں کے بارے میں بتایا''۔ شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق صدر بشار الاسد نے الاخضر الابراہیمی کے ساتھ اپنی ملاقات کو دوستانہ اور تعمیری قرار دیا ہے۔