.

شامی وزارت خارجہ کے ترجمان واشنگٹن میں امریکیوں کے زیر تفتیش

جہاد مقدسی کی اچانک روپوشی کا معما حل ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی وزارت خارجہ کے سابق ترجمان جہاد مقدسی کے پُراسرار طور پر لاپتا ہونے کا معما حل ہونے کے اشارے ملے ہیں اور ایک برطانوی اخبار نے اطلاع دی ہے کہ وہ اس وقت واشنگٹن میں امریکی انٹیلی جنس اداروں کے زیر تفتیش ہیں اور امریکیوں سے اس عمل میں تعاون کر رہے ہیں۔

برطانوی اخبار گارجین میں سوموار کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس حکام نے ان کو بیروت سے واشنگٹن فرار میں مدد دی تھی۔ وہ قریباً ایک ماہ قبل دمشق سے بیروت اور وہاں سے واشنگٹن پہنچ گئے تھے۔

جہاد مقدسی کے بارے میں چند روز قبل یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ انھیں لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے بیروت پہنچنے کے بعد اغوا کر لیا تھا اور انھیں مبینہ طور پر شامی حکومت کے حوالے کردیا تھا لیکن ان کے حوالے سے دمشق حکومت کی جانب سے یہ بیانات بھی سامنے آئے ہیں کہ وہ تین ماہ کی رخصت پر ہیں۔

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں غائب ہونے کے چار روز بعد تین دسمبر کو حزب اللہ کے المنار ٹیلی ویژن اسٹیشن نے یہ اطلاع دی تھی کہ جہاد مقدسی کو حکومت کے موقف کے منافی بیانات جاری کرنے پر برطرف کر دیا گیا ہے۔

ان کے قریبی ذرائع کے حوالے سے تب یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ وہ دمشق سے بیروت چلے گئے ہیں جہاں سے وہ لندن جائیں گے اور وہاں نیوز کانفرنس سے خطاب کریں گے لیکن ان کے بیروت پہنچنے کا تو سراغ ملا تھا، اس کے بعد وہ کہاں چلے گئے، اس کی کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی تھی۔

لیکن چار دسمبر کو برطانوی حکام نے اخبار گارجین کو بتایا تھا کہ جہاد مقدسی لندن نہیں پہنچے۔ بعد میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ وہ امریکا جارہے ہیں لیکن واشنگٹن نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ ''ہمارے خیال میں جہاد مقدسی لندن میں ہیں لیکن ہم اس کی تصدیق نہیں کرسکتے اور نہ ان کے امریکی سفارت خانے میں پہنچنے کے بارے میں آگاہ ہیں''۔

شامی صدر بشار الاسد کی حکومت مبینہ طور پر جہاد مقدسی کے ایک نیوز کانفرنس کے دوران کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق بیان سے نالاں تھی۔ انھوں نے کہا تھا کہ شامی رجیم شہریوں کے خلاف کبھی کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کرے گا اور صرف بیرونی مداخلت کی صورت ہی میں ان ہتھیاروں کو استعمال کیا جائے گا۔ جہاد مقدسی نے دراصل اس بیان کے ذریعے پہلی مرتبہ اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ دمشق کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں۔

جہاد مقدسی بشار الاسد کی حکومت میں عیسائی اقلیت سے تعلق رکھنے والے سب سے سنئیر عہدے دار تھے۔دسمبر کے پہلے ہفتے میں ان کے غائب ہونے کی اطلاع منظر عام پر آنے کے بعد شامی حکومت نے کہا تھا کہ جہاد مقدسی کو برطرف کر دیا گیا ہے اور اس حوالے سے ایک بیان جاری کیا جائے گا لیکن اس نے ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیا تھا۔

جہاد مقدسی سے قریبی تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا تھا کہ وہ کافی عرصہ پہلے شام چھوڑنا چاہتے تھے لیکن وہ اپنے والدین کی دمشق سے بیروت میں محفوظ منتقلی چاہتے تھے اور وہ اپنے والدین کے بیروت منتقل ہونے کے بعد ہر ہفتے ان سے ملنے کے لیے جایا کرتے تھے۔

جہاد مقدسی روانی سے انگریزی بولتے ہیں اور وہ پیشہ ور ابلاغی ماہر ہیں۔ انھیں مارچ 2011ء میں شامی صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی تحریک کے آغاز کے بعد وزارت خارجہ کا ترجمان مقرر کیا گیا تھا۔ وہ دمشق میں نیوز کانفرنسوں میں صدر بشار الاسد کی عوامی مزاحمتی تحریک کے خلاف کارروائیوں کا دفاع کرتے اور شامی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شہریوں کے قتل عام کی تردید کرتے رہے تھے۔