.

مقبوضہ القدس یہودی آبادکاروں کے لیے مزید 1200 مکانوں کی منظوری

یہودی آبادکاری کے نام پر فلسطینی سر زمین ہتھیانے کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیل کی وزارت داخلہ نے مقبوضہ بیت المقدس کے نواح میں واقع یہودی بستی گیلو میں یہودی آبادکاروں کے لیے مزید بارہ سو نئے مکانوں کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری کی نگرانی کرنے والی اسرائیلی تنظیم ''اب امن''(پیش نَو) نے منگل کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ وزارت داخلہ نے سوموار کی رات ان مکانوں کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔

''اب امن'' کے ایک عہدے دار ہاگیٹ عفران نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مقبوضہ بیت المقدس کے لیے پلاننگ کمیٹی کا اجلاس گذشتہ جمعرات کو ہوا تھا اور اس میں اس منصوبے سے متعلق اعتراضات کی سماعت کی گئی تھی۔ اس کے بعد وزارت داخلہ نے گیلو میں بارہ سو نئے مکانوں کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔

اس منصوبے کے تحت مقبوضہ بیت المقدس کے جنوب میں مغربی کنارے کے شہر بیت لحم کے نزدیک واقع گیلو کی توسیع بستی مرڈوٹ گیلو میں یہودی آبادکاروں کے لیے نئے مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف کام کرنے والی ایک اور تنظیم کے عہدے دار ڈینیل سیڈمن کا کہنا ہے کہ ''صرف گذشتہ سات روز کے دوران اسرائیل نے مشرقی القدس کے آس پاس کے علاقوں میں پانچ ہزار تین سو پچاس نئے مکانوں کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔1967ء کی جنگ میں القدس پر اسرائیل کے قبضے کے بعد سے اس طرح اتنی تیزی اور زیادہ تعداد میں یہودی آبادکاروں کے لیے مکانوں کی تعمیر کے منصوبوں کی منظوری کی مثال نہیں ملتی''۔

اسرائیلی وزارت دفاع نے گذشتہ ہفتے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستی گیواوٹ میں پانچ سو سے زیادہ مکانات کی تعمیر کی منظوری دی تھی۔ صہیونی ریاست نے گذشتہ ماہ یہودی آبادکاروں کے لیے تین ہزار نئے مکانوں کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔ ایک اسرائیلی عہدے دار نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ فلسطین کو اقوام متحدہ میں غیر رکن ریاستی مبصر کا درجہ دینے کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔



اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل نے گذشتہ ہفتے اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی سر زمین پر یہودی بستیوں کی تعمیر کے منصوبے کی مذمت کی تھی۔ اور تو اور سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس میں امریکی سفیر سوسان رائس نے بھی یہودی آبادکاری کو ''اشتعال انگیز'' اقدام قرار دے کر اس کی مذمت کی تھی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے یہودی بستیوں میں توسیع کے منصوبے پر عمل درآمد کیا تو اس کے فلسطینیوں کے ساتھ امن کے لیے بہت گہرے مضمرات ہوں گے۔ انھوں نے اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف حصوں اور بیت المقدس میں نئے مکانوں کی تعمیر کے اعلان پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہودی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں۔بین کی مون کی جانب سے اسرائیل کے خلاف یہ غیرمعمولی سخت ردعمل تھا۔

اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں تین لاکھ سے زیادہ یہودی آبادکاروں کو بسایا جا چکا ہے جبکہ بائیس لاکھ مقامی فلسطینی اس علاقے میں رہ رہے ہیں۔ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں مغربی کنارے،غزہ کی پٹی اور القدس پر قبضہ کیا تھا جس کے بعد اس نے دوسرے ممالک سے آنے والے یہودیوں کی ان علاقوں میں آبادکاری شروع کر دی تھی۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق یہودی آبادکار بہت سے مکانات ایسے علاقوں میں تعمیرکررہے ہیں جو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان کسی امن معاہدے کی صورت میں مستقبل میں قائم ہونے والی فلسطینی ریاست کا حصہ ہوں گے اور اسی کے پیش نظر امریکا کی ثالثی میں امن مذاکرات کی بحالی کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔