.

638 فیصد ووٹوں کی حمایت سے مصر کا نیا دستور منظور

ریفرینڈم میں ووٹ ڈالنے کا تناسب 32.9 فیصد رہا: الیکشن کمیٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی سپریم الیکشن کمیٹی نے نئے دستور کو منظور یا رد کرنے کے لیے دو مراحل میں منعقدہ ریفرینڈم کے حتمی سرکاری نتائج کا اعلان کر دیا ہے جس کے مطابق تریسٹھ اعشاریہ آٹھ فی صد ووٹروں نے نئے آئین کی منظوری دی ہے۔

سپریم الیکشن کمیٹی کے رکن جج سمیر ابو ال متی نے منگل کو قاہرہ میں ایک نیوز کانفرنس میں ریفرینڈم کے نتائج کا اعلان کیا۔ انھوں نے بتایا کہ دو مراحل میں منقعدہ ریفرینڈم میں ووٹ ڈالنے کی شرح بتیس اعشاریہ نو فی صد رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ملک بھر میں پانچ کروڑدس لاکھ اہل ووٹر تھے۔ ان میں سے صرف ایک کروڑ ستر لاکھ نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔ ان میں سے قریباً ایک کروڑ نے آئین کے حق میں اور ساٹھ لاکھ ووٹروں نے آئین کے خلاف ووٹ ڈالا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ریفرینڈم میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق دائر کی گئی تمام شکایات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا گیا ہے۔ انھوں نے ان شکایات کو مسترد کر دیا کہ دو مراحل میں ریفرینڈم کی نگرانی کے لیے مطلوبہ تعداد میں ججز دستیاب نہیں تھے۔

اس سے پہلے ملک کی سب سے منظم سیاسی مذہبی جماعت اخوان المسلمون نے اتوار کو اپنے جمع کردہ غیر سرکاری نتائج کی بنیاد پر ریفرینڈم میں آئین کی منظوری کا اعلان کیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ چونسٹھ فی صد ووٹروں نے نئے آئین کے حق میں ووٹ دیا ہے۔اس طرح اخوان کے مرتب کردہ نتائج اور الیکشن کمیٹی کے نتائج میں کوئی بڑا فرق نہیں ہے اور ان کے اعداد وشمار قریب قریب ایک جیسے ہی ہیں۔

اخوان کی جانب سے جاری کردہ غیر سرکاری نتائج کی تصدیق کے بعد اب منظورشدہ نئے آئین کے تحت آیندہ دوماہ میں پارلیمانی انتخابات کرائے جائیں گے اور اخوان المسلمون اور اس کی اتحادی اسلامی جماعتیں ایک مرتبہ پھر لبرل اور سوشلسٹ جماعتوں کے مدمقابل ہوں گی۔

لیکن حزب اختلاف نے نئے دستور کی منظوری کے لیے منعقدہ ریفرینڈم کے نتائج کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور اس نے دعویٰ کیا ہے کہ پولنگ کے دوران فراڈ اور بے ضابطگیوں کا ارتکاب کیا گیا ہے۔حزب اختلاف کے اتحاد نیشنل سالویشن فرنٹ کے ایک رکن عبدالغافر شکر نے اتوار کو قاہرہ میں نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''ریفرینڈم شاہراہ کا اختتام نہیں بلکہ یہ تو صرف ایک جنگ ہے اور ہم مصری عوام کے لیے جنگ جاری رکھیں گے''۔

حزب اختلاف کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اسلام پسندوں کا مرتب کردہ نیا آئین شخصی آزادیوں اور عورتوں اور اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دینے میں ناکام رہا ہے۔اس کی منظوری کے بعد مصری معاشرے میں انتشار میں اضافہ ہو گا۔

سوشلسٹوں، آزاد خیال مسلمانوں اور عیسائیوں پر مشتمل حزب اختلاف کے اتحاد کا کہنا ہے کہ اہل ووٹروں کی صرف ایک تہائی تعداد کے آئینی ریفرینڈم میں حصہ لینے سے ہی نئے آئین کی قانونی اعتباریت اور ساکھ مجروح ہوگئی ہے جبکہ ووٹروں کی دو تہائی اکثریت ریفرینڈم سے لاتعلق رہی ہے۔

حزب اختلاف کے ایک اہم لیڈر اور عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سابق سربراہ محمد البرادعی نے صدر محمد مرسی پر زور دیا ہے کہ وہ تمام سیاسی دھڑوں پر مشتمل قومی حکومت تشکیل دیں تاکہ ملک کو بحرانوں سے نکالا جا سکے۔ انھوں نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ اگر صدر مرسی تمام مصریوں کے منتخب نمائندے کے طور پر بات کریں تو وہ ان کے ساتھ ہاتھ ملانے اور ان کے شانہ بشانہ چلنے کو تیار ہیں۔