.

آئین سے مصر میں جمہوری نظام کی راہ ہموار ہو گیصدر مرسی

ریفرینڈم میں منظورشدہ آئین پر دستخط کے بعد قوم سے خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے صدر محمد مرسی نے کہا ہے کہ عدلیہ کی نگرانی میں ریفرینڈم کا شفاف انداز میں انعقاد کیا گیا ہے اور اس میں منظورشدہ آئین سے ملک میں جمہوری نظام کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔

صدر مرسی ریفرینڈم میں منظورشدہ ملک کے نئے دستور پر دستخط کے بعد بدھ کی شام قوم سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ملک کے نئے آئین پر مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان اختلافات ایک معمول کی بات ہے۔

انھوں نے نئے دستور سے متعلق حزب اختلاف کے بعض مزعومہ خدشات اور اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں صدر کا کردار علامتی رہ گیا ہے۔صدر کو اب عوام کا خادم بنا دیا گیا ہے اور آئین میں اظہاررائے کی آزادی ،تخلیقیت اور جدید اقدار کی ضمانت دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ ملکی معیشت کو پٹڑی پر ڈالنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لائیں گے اور معیشت کو سنبھالا دینے کی غرض سے سرمایہ کاروں کے لیے مراعات کا ایک پیکج تیار کیا جارہا ہے۔

صدرمرسی نے بتایا کہ انھوں نے وزیراعظم ہشام قندیل سے کابینہ میں تبدیلی سے متعلق بات چیت کی ہے اور اگر ضروری ہوا تو کابینہ میں ردوبدل کیا جائے گا۔انھوں نے تمام سیاسی دھڑوں پر ایک مرتبہ پھر زوردیا کہ وہ قومی مذاکرات کے عمل میں شریک ہوں۔

مصری صدر نے منگل کی رات ریفرینڈم کے حتمی نتائج کے اعلان کے بعد نومنظورشدہ آئین پر دستخط کردیے تھے اور یہ ملک میں نافذالعمل ہوگیا تھا۔نئے آئین کے تحت آیندہ دوماہ میں پارلیمانی انتخابات کرائے جائیں گے اور اخوان المسلمون اور اس کی اتحادی اسلامی جماعتیں ایک مرتبہ پھر لبرل اور سوشلسٹ جماعتوں کے مدمقابل ہوں گی۔

بے ضابطگیوں کی تحقیقات

قبل ازیں مصر کی قومی کونسل برائے انسانی حقوق نے الیکشن حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ریفرینڈم کے دوران رونما ہونے والی بے ضابطگیوں اور قانونی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کریں۔

کونسل نے اعلیٰ عدالتی الیکشن کمیشن کے ہاں ایک ہزار تہتر شکایات درج کرائی ہیں۔مصر کے آزاد روزنامے المصری الیوم کی رپورٹ کے مطابق ان شکایات کا تعلق ''پولنگ اسٹیشنوں کو تاخیر سے کھولنے ،ان کی حدود اور ان کے باہر ووٹروں پر اثرانداز ہونے کے لیے حکومت کے حامیوں اور مخالفین کی سرگرمیوں ،پولنگ مراکز کی قبل از وقت بندش،اجتماعی طور پر ووٹ ڈالنے کے عمل اور مبصرین کو ان کے کام سے روکنے سے ہے''۔

کونسل کے الیکشن سپورٹ یونٹ کے سربراہ محمد الدماطی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم نے دوسرے مبصرین کے مقابلے میں زیادہ خلاف ورزیوں کا سراغ لگایا ہے اور کونسل نے ریفرینڈم کی نگرانی کے لیے اپنے مبصرین کو پچاس ہزار سے زیادہ اجازت نامے جاری کیے تھے۔

درایں اثناء مصر کے وزیراعظم ہشام قندیل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ریفرینڈم کے نتائج میں کسی کی بھی ہار نہیں ہوئی ۔یہ آئین ہم سب کے لیے ہے۔انھوں نے تمام سیاسی قوتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ معیشت کی بحالی کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کریں۔

لیکن حزب اختلاف نے ایک مرتبہ پھر ریفرینڈم کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔حزب اختلاف کے اتحاد نیشنل سالویشن فرنٹ کے ترجمان خالد داؤد نے ایک بیان میں کہا کہ ''ہم نے پولنگ کے دوران قانونی خلاف ورزیوں اور فراڈ سے متعلق پراسیکیوشن کے ہاں جو شکایات درج کرائی ہیں،ان کے بعد قانون اپنا راستہ بنائے گا''۔

مصر کی سپریم الیکشن کمیٹی نے منگل کو دومراحل میں منعقدہ ریفرینڈم کے حتمی سرکاری نتائج کا اعلان کیا تھا۔اس کے مطابق تریسٹھ اعشاریہ آٹھ فی صد ووٹروں نے نئے آئین کی منظوری دی ہے۔ریفرینڈم میں ووٹ ڈالنے کی شرح بتیس اعشاریہ نو فی صد رہی اور ملک بھر میں پانچ کروڑدس لاکھ اہل ووٹر تھے۔ان میں سے صرف ایک کروڑ ستر لاکھ نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا۔ان میں قریباً ایک کروڑ نے آئین کے حق میں اور ساٹھ لاکھ ووٹروں نے آئین کی مخالفت میں ووٹ ڈالا تھا۔