.

عراق صوبہ الانبار میں اہم تجارتی شاہراہ گذشتہ چار روز سے بند

وزیر خزانہ کے محافظوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق کے مغربی صوبہ الانبار میں اہل سنت سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شیعہ وزیر اعظم نوری المالکی کے خلاف احتجاج کے دوران بدھ کو مسلسل چوتھے روز پڑوسی ممالک شام اور اردن کی جانب جانے والی مرکزی تجارتی شاہراہ کو بند رکھا ہے۔

عراق کے اہل سنت گذشتہ ہفتے وزیر خزانہ رفیع العیساوی کے محافظوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور انھوں نے حکومت کے خاتمے تک اپنا احتجاج جاری رکھنے کی دھمکی دی ہے۔ الانبار میں احتجاجی مظاہرے میں شریک ہزاروں افراد وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کر رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ عوام حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

ہزاروں مظاہرین نے صوبہ الانبار میں عراق، اردن اور شام کے درمیان واقع مرکزی تجارتی شاہراہ پر دھرنا دے رکھا ہے۔الانبار کے ساتھ واقع سنی اکثریتی صوبہ صلاح الدین کے شہر سامراء میں بھی اہل سنت نے وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

رفیع العیساوی نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''ان کے محافظوں کو سیاسی محرکات کی بنا پر گرفتار کیا گیا ہے اور نوری المالکی جان بوجھ کر اشتعال انگیزی کو ہوا دے رہے ہیں۔اب بہت ہوچکی۔اس طرح کی ذہنیت کے ساتھ ملک کو نہیں چلایا جاسکتا''۔

عراق کے اہل تشیع کے شعلہ بیان لیڈر مقتدیٰ الصدر نے ایک بیان میں مظاہرین کو اپنی حمایت کی پیش کش کی ہے اور وزیر اعظم مالکی کی پالیسیوں کو فرقہ پرستی پر مبنی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ سنی وزیر خزانہ رفیع العیساوی کے محافظوں کو عارضہ قلب میں مبتلا صدر جلال طالبانی کے علاج کے لیے جرمنی روانہ ہونے کے چند گھنٹے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ ان سے قبل اسی انداز میں سنی مفرور نائب صدر طارق الہاشمی کے محافظوں کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے اور ان پر نوری المالکی کی حکومت نے ڈیتھ اسکواڈ چلانے کا الزام عاید کیا تھا۔ان میں سے بعد کو سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ طارق الہاشمی اس وقت ترکی میں مقیم ہیں اور انھیں بھی مختلف مقدمات میں چار مرتبہ سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔