.

ابراہیمی کی شام میں آیندہ انتخابات تک عبوری حکومت کی تجویز

شامی بحران کے خاتمے کے لیے سیاسی تبدیلی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اقوام متحدہ اورعرب لیگ کے خصوصی ایلچی الاخضرالابراہیمی نے کہا ہے کہ شام میں گذشتہ اکیس ماہ سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے سیاسی تبدیلی کی ضرورت ہے۔انھوں نے شامی بحران کے حل کے لیے آیندہ انتخابات کے انعقاد تک عبوری حکومت کے قیام کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

الاخضر الابراہیمی شام کے پانچ روزہ دورے کے اختتام پر جمعرات کو دمشق میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔انھوں نے شام میں عبوری حکومت کے قیام کے لیے اپنے نئے منصوبے کی تفصیل تو نہیں بتائی۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ عام شامیوں کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

انھوں نے اپنی نیوزکانفرنس میں شام میں حقیقی تبدیلی پر تو زوردیا ہے لیکن صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے واضح لفظوں میں کچھ نہیں کہا۔ان کی موجودہ مدت صدارت 2014ء میں ختم ہوگی۔

دوسری جانب شامی حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں سیاسی انتقال اقتدار کے لیے کسی بھی حل کو تسلیم کرنے کو تیار ہے لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ اس میں صدر بشارالاسد اور ان کے خاندان کا بالکل بھی کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے اور نہ ان لوگوں کا کوئی کردار ہونا چاہیے جنھوں نے شامی عوام کو مسائل ومصائب سے دوچار کیا ہے۔

حزب اختلاف کے اتحاد کے ترجمان ولی البنی نے استنبول میں جمعرات کو نیوزکانفرنس میں کہا کہ بشارالاسد اور ان کے حواریوں کے لیے ہماری پہلی شرط یہ ہے کہ وہ ملک سے چلے جائیں۔

ادھر ماسکو میں روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے کا کہنا ہے کہ شام میں جاری بحران کا طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل تلاش کیا جانا چاہیے۔

روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق سرگئی لاروف نے شام کے نائب وزیرخارجہ فیصل مقداد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مختلف گروپوں کے درمیان وسیع البنیاد بات چیت کے ذریعے بحران کا پُرامن حل تلاش کیا جائے اور اس کا کوئی اور متبادل نہیں ہے۔