.

حسنی مبارک خرابیٔ صحت کی بنا پر فوجی اسپتال منتقل

جیل میڈیکل کمیٹی کی رپورٹ پر پراسیکیوٹر جنرل کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے سابق علیل صدر حسنی مبارک کو خرابیٔ صحت کی بنا پر جیل سے قاہرہ کے نواح میں واقع ایک فوجی اسپتال میں منتقل کردیا گیا ہے۔

العربیہ کی اطلاع کے مطابق سابق صدر کو پراسیکیوٹر جنرل طلعت ابراہیم کے فیصلے کے بعد قاہرہ کے نواح میں واقع طرہ جیل کے اسپتال سے معدی فوجی اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔

قبل ازیں برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے اطلاع دی تھی کہ حسنی مبارک کو ان کی بگڑتی ہوئی صحت کے پیش نظر معدی کے فوجی اسپتال میں منتقل کیا جارہا ہے۔تاہم ان کے طبی معائنے کی رپورٹ یا سفارشات منظرعام پر نہیں آئی تھیں کہ انھیں کیوں اچانک جیل سے فوجی اسپتال لایا جارہا ہے۔

مصر کے سرکاری روزنامے الاہرام کی رپورٹ کے مطابق پراسیکیوٹر جنرل طلعت ابراہیم کو طرہ جیل کی میڈیکل کمیٹی کی جانب سے ایک رپورٹ موصول ہوئی تھی جس میں حسنی مبارک کو جدید آلات سے آراستہ جیل میں منتقل کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔

حسنی مبارک چند ہفتے قبل بھی اچانک علیل ہوگئے تھے اور معدی اسپتال کے ڈاکٹروں نے انھیں کلینکل طور پر مردہ قرار دے دیا تھا اور کئی روز تک انھیں مصنوعی تنفس کے سہارے پر رکھا گیا تھا لیکن ان کی حالت بہتر ہونے کے بعد ایک مرتبہ پھر انھیں جیل کے اسپتال میں منتقل کردیا گیا تھا۔

اس سے پہلے سابق صدر کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ خون کے کم دباٶ کی وجہ سے ان پر غشی کی کیفیت طاری ہوجاتی ہےاور ان کی رنگت پیلی پڑجاتی ہے۔ان کے دل کی دھڑکن بھی غیر مستقل ہے جس کی وجہ سے انھیں اچانک دل کا دورہ پڑسکتا ہے اور وہ کسی سہارے کے بغیر بستر سے نہیں اٹھ سکتے ہیں.

واضح رہے کہ حسنی مبارک معدے کے کینسر کے علاوہ مختلف امراض میں مبتلا ہیں۔چوراسی سالہ سابق صدر کو جون میں مظاہرین پر تشدد اور ان کی ہلاکتوں کے الزام میں قائم کیے گئے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گَئی تھی۔حسنی مبارک کے خلاف 25جنوری سے 11فروری 2011ء تک پُرتشدد مظاہروں کے دوران آٹھ سو چھیالیس افراد مارے گئے تھے اور چھے ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔