.

حلب کے اٹارنی جنرل کا بشار الاسد کے خلاف اعلان بغاوت

اسدی فوج کی شام میں 277 اہداف پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام میں بشار الاسد کے خلاف جاری عوامی بغاوت کی تحریک میں صدر اسد کے مقربین تیزی سے ان کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق حلب کے پراسیکیوٹر جنرل احمد النعیمی ایڈووکیٹ نے بھی صدر اسد کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا ہے۔

شامی باغیوں کی جانب سے جاری ایک ویڈیو فوٹیج میں ایڈووکیٹ نعیمی کو صدر اسد سے علاحدگی اختیار کرنے اور جیش الحر کی جوڈیشل کونسل میں شامل ہونے کا اعلان کرتے دکھایا گیا ہے۔ اپنے اس اعلان میں باغی اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ وہ قوم کے خلاف حکومتی جرائم کے تسلسل کے بعد بطور احتجاج ایسا کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

درایں اثناء محاذ جنگ سے مختلف رابطہ کمیٹیوں کی جانب سے جاری اطلاعات کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں سرکاری فوج کی گولہ باری سے 164 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ مہلوکین کی بڑی تعداد الرقہ، ادلب اور دمشق میں بتائی جاتی ہے۔ باغیوں کی رپورٹس کے مطابق سرکاری فوج نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ملک کے 277 مقامات پر بمباری کی۔ ادھر باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ جیش الحر نے دمشق کے نواح میں ودای الضیف پر قبضہ مضبوط کر کے سرکاری فوج کی لاجسٹک سپورٹ بند کر دی ہے۔ دفاعی اعتبار سے وادی الضیف سرکاری فوج کے لیے اہم ترین مقام سمجھا جاتا تھا۔

انقلابی رابطہ کمیٹیوں کا کہنا ہے کہ سرکاری فوج نے دمشق کے مضافاتی علاقے الرقہ اور حماۃ میں کفر زیتا میں بمبار طیاروں کے ذریعے بمباری کر کے نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔ بمباری میں درجنوں خواتین اور بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔ حماۃ کے نواحی شہر البسخہ میں باغیوں نے ایک بمباری طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے تاہم آزاد ذرائع سے اس خبر کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ دمشق کے قریب سرعایا کے مقام پر جیش الحر کی کارروائی میں سرکاری فوج کا ایک کرنل اور چار دیگر اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔