.

مصر البرادعی، عمرو موسیٰ اور صباحی کے خلاف تحقیقات کا حکم

صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے پراسیکیوٹر جنرل نے حزب اختلاف کے متعدد لیڈروں کے خلاف صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

پراسیکیوٹر نے یہ حکم نامہ ایک وکیل کی جانب سے حزب اختلاف کے اتحاد نیشنل سالویشن فرنٹ کے تین بڑے لیڈروں محمد البرادعی ،عمرو موسیٰ اور حمدین صباحی کے خلاف دائر کردہ درخواست کے بعد جاری کیا ہے۔

ایک سرکاری عہدے دار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ ان تحقیقات کا مطلب یہ نہیں کہ ان لیڈروں کے خلاف کوئی فرد جرم بھی لگائی جائے گی لیکن سرکاری پراسیکیوٹر کی جانب سے سرکردہ سیاسی شخصیات کے خلاف اس طرح کی تحقیقات ایک غیر معمولی بات ہے۔

عمرو موسیٰ کی ترجمان یارہ خلاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سرکاری طور پر کوئی الزامات سامنے نہیں لائے گئے ہیں اور نہ ہمیں طلب کیا گیا ہے۔تاہم انھوں نے حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

محمد البرادعی کی قیادت میں حزب اختلاف کی جماعت کے سیکرٹری جنرل عماد ابوغازی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس تحقیقات کی کوئی تفصیل نہیں ہے لیکن الزامات اور تفتیش اس رجحان کا اشارہ ضرور ہیں کہ ملک کو پولیس ریاست میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور سیاسی مخالفین کا قلع قمع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ابو غازی نے کہا کہ سابق صدر حسنی مبارک کے دور حکومت میں بھی حزب اختلاف کے ساتھ اسی طرح کا معاملہ کیا جاتا رہا ہے۔ محمد البرادعی اور حمدین صباحی کی جانب سے مذکورہ الزام کے حوالے سے فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

مصر کے پراسیکیوٹرجنرل نے صدر محمد مرسی کے تین مخالفین کے خلاف تحقیقات کا حکم حال ہی منعقدہ ریفرینڈم میں منظور شدہ ملک کے نئے دستور پر صدر کے دستخط اور ان کے قوم سے خطاب کے ایک روز بعد جاری کیا ہے۔

مصری صدر نے اپنی تقریر میں نئے دستور سے متعلق حزب اختلاف کے بعض مزعومہ خدشات اور اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں صدر کا کردار علامتی رہ گیا ہے۔صدر کو اب عوام کا خادم بنا دیا گیا ہے اور آئین میں اظہار رائے کی آزادی، تخلیقیت اور جدید اقدار کی ضمانت دی گئی ہے۔

دوسری جانب حزب اختلاف کا سب سے بڑا اعتراض یہ رہا ہے کہ اسلام پسندوں کا مرتب کردہ نیا آئین شخصی آزادیوں اور عورتوں اور اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دینے میں ناکام رہا ہے۔اس کی منظوری کے بعد مصری معاشرے میں انتشار میں اضافہ ہی ہو گا۔

عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سابق سربراہ محمد البرادعی نے گذشتہ ہفتے صدر محمد مرسی پر زوردیا تھا کہ وہ تمام سیاسی دھڑوں پر مشتمل قومی حکومت تشکیل دیں تاکہ ملک کو بحرانوں سے نکالا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ ''اگر صدر مرسی تمام مصریوں کے منتخب نمائندے کے طور پر بات کریں تو وہ ان کے ساتھ ہاتھ ملانے اور ان کے شانہ بشانہ چلنے کو تیار ہیں''۔