.

شامی فضائیہ کے دو جرنیل اور تین سرکاری صحافی منحرف

منحرف جرنیل ترکی کے سرحدی قصبے میں پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ترکی کے ایک سفارت کار کا کہنا ہے کہ شامی فضائیہ کے دو جرنیل منحرف ہو کر حزب اختلاف کے ساتھ مل گئے ہیں۔دوسری جانب شام کے تین سرکاری صحافیوں نے بھی بشار الاسد کے علم بغاوت بلند کر دیا ہے اور ان کی ملازمت کو خیرباد کہہ دیا ہے۔

ترک سفارت کار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ دونوں جرنیل شام کی ریجنل ائیر فورس کے کمانڈرز ہیں۔ وہ سرحد پار کرکے ترکی کے جنوبی قصبے ریحان علی میں پہنچ چکے ہیں۔

ان دونوں جنرلوں اور نچلے گریڈ کے دسیوں افسروں اوران کے خاندانوں کو فوجی منحرفین کے لیے مخصوص کیمپ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ترک حکام اب تک شامی فوج کے منحرف جرنیلوں کی درست تعداد بتانے سے گریز کرتے چلے آ رہے ہیں جبکہ ان سے بعض شام میں واپس آ کر باغی جنگجوؤں کے شانہ بشانہ سرکاری فوج کے خلاف لڑرہے ہیں۔

ادھر پیرس میں شام کے سرکاری میڈیا سے وابستہ تین صحافیوں نے ایک نیوز کانفرنس میں اپنے انحراف کا اعلان کیا ہے۔ العربیہ کے نمائندے نے پیرس سے اطلاع دی ہے کہ شام کے سرکاری ریڈیو سانا کے ڈائریکٹر پروگرامنگ جمال بیک، سانا کی آن لائن نیوز ویب سائٹ کے ساتھ وابستہ لما ء الخضریٰ بدور اور عبدالکریم نے بتایا کہ اس وقت دمشق میں سرکاری میڈیا صدر اسد کی وفادار شبیحہ فورسز کی آماج گاہ بن چکا ہے اور ان کے محاصرے میں ہے۔

انھوں نے کہا کہ شام کے سرکاری ٹی وی کی عمارت میں انٹیلی جنس سروسز کے اہلکاروں کا بسیرا ہوچکا ہے اور چھتوں پر بندوق برداروں کا قبضہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد ایک نئے ٹی وی چینل کی نشریات شروع کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں جو اسد رجیم کے چینل کی جگہ لے گا۔

ان دونوں شامی جرنیلوں اور صحافیوں نے ایسے وقت میں صدر بشار الاسد کا ساتھ چھوڑا ہے جب ملک کے مختلف علاقوں میں باغی جنگجوؤں اور سرکاری فوج کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے اور شمالی شہر حلب کے نواح میں باغی جنگجوؤں نے ایک ہوائی اڈے کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

دو روز قبل شام کی ملٹری پولیس کے سربراہ میجر جنرل عبدالعزیز جاسم الشلال بھی منحرف ہو کر ترکی چلے گئے تھے اور انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر بشار الاسد کی وفادار فوج ایک گینگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ وہ شامی عوام کو دہشت زدہ کرنے کے علاوہ ان کا قتل عام کررہی ہے اور ان کے دیہات اور شہروں کو تباہ کر رہی ہے۔