.

وزیر اعظم مالکی کی پالیسیوں کے خلاف ہزاروں عراقی سراپا احتجاج

حکومت سے سیاسی اسیروں کی رہائی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق کے مغربی صوبہ الانبار میں اہل سنت سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شیعہ وزیر اعظم نوری المالکی کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج جاری رکھا ہوا ہے اور انھوں نے نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

الانبار سے تعلق رکھنے والی سنی شیوخ اور علماء نے نمازجمعہ کے بعد عراقیوں سے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی تھی۔وہ عراقی جیلوں میں بند سیاسی اسیروں کی رہائی اور قیدی خواتین کا تقدس برقرار رکھنے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ انھوں نے ملک میں نافذ دہشت گردی کے قوانین کی تبدیلی کا مطالبہ کیا جو ان کے بہ قول اہل سنت کو دبانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

قبائلی شیوخ نے بتایا کہ انھیں شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر نے بھی حکومت کے خلاف اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے اور انھیں ایک خط بھیجا ہے۔شعلہ بیان مقتدیٰ الصدر نے دوروز قبل اہل سنت سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کو اپنی حمایت کی پیش کش کی تھی اور وزیر اعظم مالکی کی پالیسیوں کو فرقہ پرستی پر مبنی قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔

العربیہ کی رپورٹ کے مطابق عراق کے سنی آبادی والے دوسرے صوبوں صلاح الدین اور نینویٰ سے تعلق رکھنے والے عوام نے بھی وزیر اعظم نوری المالکی کے خلاف احتجاج کرنے والے الانبار کے سنیوں کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے اور ان کے مطالبات کے حق میں سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

جمعرات کو شمالی شہر موصل اور مغربی شہر رمادی میں ہزاروں افراد نے وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور سخت نعرے بازی کی تھی۔انھوں نے عرب بہاریہ ممالک کی تحریکوں کی طرح حکومت کے خاتمے کے حق میں نعرے لگائے اور کہا کہ لوگ مالکی حکومت کا دھڑن تختہ چاہتے ہیں۔ان میں سے بعض نے سابق صدر صدام حسین کے دور کے تین ستارہ پرچم بھی پکڑ رکھے تھے۔ بعث پارٹی کے اقتدار کی علامت اس پرچم کو موجودہ عراقی حکومت نے 2008ء میں تبدیل کردیا تھا۔

عراق کے اہل سنت گذشتہ ہفتے وزیرخزانہ رفیع العیساوی کے محافظوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور انھوں نے حکومت کے خاتمے تک اپنا احتجاج جاری رکھنے کی دھمکی دی ہے۔وزیرخزانہ کے محافظوں کوعارضہ قلب میں مبتلا صدر جلال طالبانی کے علاج کے لیے جرمنی روانہ ہونے کے چند گھنٹے کے بعد گرفتار کرلیا گیا تھا۔

الانبار میں ہزاروں مظاہرین نے صوبائی دارالحکومت رمادی کے نزدیک عراق کو اردن اور شام سے ملانے والی مرکزی تجارتی شاہراہ پر دھرنا دے رکھا ہے اور اسے گذشتہ چھے روز سے ہرقسم کے ٹریفک کی آمدورفت کے لیے بند کررکھا ہے۔البتہ آج مظاہرین نے مال بردار ٹرکوں کو رمادی سے ایک متبادل شاہراہ کے ذریعے جانے کی اجازت دے دی تھی۔