.

شامی زندانوں میں 2500 فوجیوں کو اذیت ناک تشدد کا سامنا ہے

باغی فوجی کا العربیہ ٹی وی کو انٹرویو میں انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے ایک باغی فوجی افسر نے انکشاف کیا ہے کہ صیدانیا شہر میں سرکاری فوج کے زیر انتظام بدنام زمانہ جیل میں فوج سے فرار کی ناکام کوشش کرنے والے 2500 افسر اور جوان ایک برس سے کسی مقدمے یا عدالت کا سامنا کئے بغیر قید ہیں۔ ان پر روزانہ تشدد کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔

فرسٹ لیفٹیننٹ معن خضر نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے 'الاحمر' جیل میں اسیران کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک کے ہوشربا واقعات سے پردہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ 'الاحمر' جیل میں سن 2011ء کی عوامی بغاوت کے بعد گرفتار کیے گئے فوجی کیپٹن حسین ھرموش بھی موجود ہیں۔ الاحمر جیل ڈیوٹی پر مامور اٹھارہ سے بیس برس عمر کے اہلکار برین واشنگ کے بعد وہاں موجود قیدیوں کو سخت تعذیب و تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

معن خضر نے بتایا کہ "میری معلومات کے مطابق اڑھائی ہزار فوجیوں کا کسی جیل میں بند کیا جانا ایک انوکھا واقعہ ہے۔ دنیا کی ایسی کوئی اور جیل نہیں ہو گی جس میں اتنی بڑی تعداد میں اپنے ہی فوجیوں کو پابند سلاسل ہوں۔ ان میں بریگیڈئر، کرنل سمیت مختلف رینکس کے اہلکار شامل ہیں۔ ملٹری اکیڈیمی سے تعلق رکھنے والے افسران بھی قید ہیں۔ دنیا ہم سے پوچھتی ہے کہ لاپتہ ہونے والے فوجی کہاں ہیں تو ہم بتاتے ہیں کہ وہ جیل میں قید ہیں جہاں اُنہیں اذیت ناک سزائیں دی جا رہی ہیں لیکن انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں انہیں بچانے کے لیے کچھ نہیں کرتی ہیں"۔

الاحمر جیل سے رہائی سے متعلق سوال کے جواب میں لیفٹیننٹ معن خضر نے بتایا کہ "مجھے 26 اکتوبر2012ء میں صدر اسد کی عام معافی کے بعد جیل سے رہائی ملی۔ میں نے یونٹ دوبارہ جوائن کی لیکن جلد ہی منحرف ہو گیا۔ فوج سے بغاوت کے بعد الابیض شہر آیا اور پھر سرحد پار کرکے ترکی آ گیا۔ بغاوت کے بعد میں نے جیش الحرکے افسران سے رابطہ کیا جنہوں نے مجھے فرار میں کامیاب کرایا‘‘۔

جیلوں میں ہونے والے تشدد کے مختلف طریقوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے معن خضر کا کہنا تھا کہ صیدانیا کے الاحمر عقوبت خانے میں اسیران پر جسمانی، نفسیاتی اور ذہنی تشدد کیا جاتا ہے۔ جسمانی طور پر قیدیوں کو مار پیٹ کے علاوہ انہیں بجلی کے جھٹکے لگائے جاتے ہیں۔ تشدد کا وحشیانہ طریقہ واٹر بورڈنگ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مہینے میں ہر قیدی کو ایک یا دو مرتبہ ضرور واٹر بورڈنگ کی اذیت سے گذارا جاتا ہے۔ وحشیانہ تشدد کے باعث بیشتر قیدی اپنے جسمانی اعضاء، قوت سماعت اور بینائی جسی قدرتی نعمتوں سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ جیلر قیدیوں کو کڑی سزائیں دینے کے لیے محض بہانے تلاش کرتے ہیں۔ قیدیوں کے منہ باتھ رومز کی جانب موڑ کر گھنٹوں انہیں پاؤں پر بیٹھنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس دوران کسی کو بات یا اشارہ کرنے کی بھی اجازت تک نہیں دی جاتی۔ خلاف ورزی کرنے والے قیدیوں کو وہیں سے اٹھا کر قید تنہائی میں ڈال دیا جاتا ہے جہاں اس پرسختیاں مزید بڑھا دی جاتی ہیں‘‘۔

معن نے بتایا کہ صیدانیا ٹارچر سیل کا ڈائریکٹر طلعت محفوظ محروسین کو اذیتیں دینے کے نت نئے نئے فنون ایجاد کرنے میں مشہور ہے۔ طلعت پہلے تدمر جیل میں تعینات رہا۔ بعد ازاں جلبوہ جیل میں ڈائریکٹر کے عہدے پر ترقی کر گیا اور اب صیدانیا جیل بھی اسی کی نگرانی میں جنہم زار کا منظر پیش کر رہی ہے۔

باغی فوجی اہلکار کا کہنا تھا کہ صیدانیا جیل کو 20 اکتوبر 2011ء کو باغی فوجیوں اور سول مسلح جنگجوؤں کے لیے تیار کیا، جس کے بعد محض شبے کی بنیاد پر بھی اپنے فوجیوں کو پکڑ کر اس جیل میں ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ آج اس جیل میں صرف فوجیوں کی تعداد اڑھائی ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

جیل میں قیدیوں کے ساتھ جاری غیر انسانی سلوک کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے لیفٹیننٹ معن خضر کا کہنا تھا کہ نفیساتی اذیت پہنچانے کے لیے قیدیوں کو الٹی وردیاں پہنائی جاتی ہیں تاکہ انہیں دیگر اسیران کے سامنے تذلیل کے عمل سے گذٓرا جا سکے۔ سونے اور آرام کرنے کا کوئی وقت نہیں اور معمولی خلاف ورزی پر بھی قیدیوں کو گھنٹوں غسل خانوں میں بند کر دیا جاتا ہے۔

کھانا دن میں صرف صبح آٹھ بجے دیا جاتا ہے۔ جس میں باسی روٹی کے چند ٹکڑے، یا ابلے ہوئے چاولوں کی چند چمچ شامل ہوتے ہیں۔ کھانے کے دوران قیدی کسی دوسرے کے ساتھ کوئی بات کر سکتے ہیں اور نہ ہی اشارہ کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ تمام قیدیوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح فرش پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ کئی قیدی بیڑیاں پہن کر کھانا کھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ معمولی نوعیت کے کھانے کے بعد قیدیوں پر جبرو تشدد کا سلسلہ پھر سے شروع کر دیا جاتا ہے اور چوبیس گھنٹے تک جاری رہتا ہے۔ میں نے بھی اسی حالت میں جیل میں گیارہ ماہ کا عرصہ گذرا۔ آج میں اپنے ان محروس مظلوم ساتھیوں کا پیغام عالمی برادری تک پہنچا رہا ہوں۔ یہ میری اور اسیران کی پکار نہیں بلکہ ہر زندہ ضمیر انسان کی آواز ہے۔