.

اسرائیل سابق وزیر خارجہ پر فراڈ کے الزام میں فرد جُرم عاید

سزا پانے کی صورت میں کابینہ میں وزیر نہیں بن سکیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیل کے سابق وزیر خارجہ اور انتہا پسند سیاست دان ایویگڈور لائبرمین پر اتوار کو باضابطہ طور پر اعتماد کو ٹھیس پہنچانے اور فراڈ کے الزامات میں فرد جرم عاید کر دی گئی ہے۔ وہ دو ہفتے قبل ان الزامات کے منظر عام پر آنے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔

اسرائیلی وزارت انصاف کے حکام کا کہنا ہے کہ لائبرمین پر ایک اسرائیلی سفارت کار کو غلط طور پر ترقی دینے کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی ہے۔ اس سفارت کار نے مبینہ طور پر لائبرمین کو ان کے خلاف پولیس کی تحقیقات سے متعلق معلومات فراہم کی تھیں۔

اسرائیلی قانون کے تحت اگر انتہا پسند لائبرمین کو فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں عدالت سزا سنا دیتی ہے تو پھر وہ سرکاری عہدہ رکھنے کے نااہل ہو جائیں گے اور آیندہ کابینہ میں وزیر نہیں بن سکیں گے۔

انتہا پسند قوم پرست یہودی ایویگڈور لائبرمین نے دو ہفتے قبل اپنے عہدے سے مستعفی ہوتے وقت ایک بیان میں کہا تھا کہ''میں قانونی طور پر اپنا استعفیٰ دینے کا پابند نہیں ہوں لیکن میں نے وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم کے عہدوں سے اور اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا ہے''۔

مسٹر لائبرمین نے کہا کہ وہ اپنے خلاف عاید کیے گئے الزامات کا مقابلہ کریں گے اور بائیس جنوری کو ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے سیاسی منظر نامے میں واپس آئیں گے۔ انھوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ عام انتخابات کے انعقاد سے قبل ان کے کیس کا فیصلہ سنا دیا جائے۔

لائبرمین حکمراں اتحاد میں شامل جماعت یسرائیل بیتنو کے سربراہ ہیں۔ ان پر فراڈ اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔ انتہا پسند وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی قیادت میں مخلوط اسرائیلی حکومت میں شامل انتہاپسند لائبرمین ماضی میں فلسطینیوں کے خلاف تندوتیز بیانات جاری کرتے رہے ہیں۔ ان کے جذباتی پن اور بے تکے انتہا پسندانہ بیانات کی وجہ سے اسرائیلی وزیر اعظم کو کئی مرتبہ سبکی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسرائیل کے اٹارنی جنرل نے لائبرمین پر فراڈ اور عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات پر فرد جرم عاید کی تھی لیکن ان پر زیادہ سنگین الزامات واپس لے لیے گئے تھے۔ ان پر منی لانڈرنگ سے متعلق زیادہ سنگین کیس کی واپسی کو لائبرمین کی فتح قرار دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ سابق انتہا پسند وزیر خارجہ مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک یہودی بستی میں رہتے ہیں۔ انھوں نے اپنے آبائی علاقوں میں مقیم صہیونی ریاست کے عرب شہریوں کی وفاداری کے بارے میں سوال اٹھا کر ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا تھا۔ ان کے بیان کو نسل پرستانہ قرار دیا گیا تھا لیکن اس بیان کے بعد انھیں انتہا پسند یہودیوں میں مقبولیت ضرور مل گئی تھی اور آیندہ پارلیمان انتخابات کے لیے ان کی پوزیشن بہتر بتائی جاتی ہے۔

لائبرمین سابق سوویت یونین کی ریاست مالدووا میں پیدا ہوئے تھے اور وہ 1978ء میں اسرائیل منتقل ہو گئے تھے۔ انھیں 1993ء میں لیکوڈ پارٹی کا انتظامی سربراہ بنا دیا گیا تھا۔ وہ نیتن یاہو کے پہلے دور حکومت میں 1996ء سے 1997ء تک وزیر اعظم کا دفتر چلاتے رہے تھے۔ سن 1999ء میں انھوں نے لیکوڈ پارٹی کو خیرباد کہہ دیا تھا اور یسرائیل بیتنو کے نام سے الگ سے اپنی جماعت بنا لی تھی۔