.

خوف میں مبتلا شامی صدر مختلف کمروں میں راتیں گزار رہے ہیں

دن میں نقل وحرکت محدود، صرف قریبی مصاحبین سے میل ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی صدر بشار الاسد کے بارے میں یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ انھوں نے قتل کیے جانے کے خوف سے بہت زیادہ محتاط طرز عمل اختیار کر لیا ہے اور وہ اپنے محل میں راتیں مختلف کمروں میں گزار رہے ہیں۔ وہ کھانے میں بھی احتیاط برت رہے ہیں اور انھوں نے کھانا پکانے کے عمل کی کڑی نگرانی شروع کر رکھی ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی اور مشرق وسطیٰ کے حکام کے حوالے سے ہفتے کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ شامی صدر نے اپنے روابط محدود کر دیے ہیں اور وہ خاندان اور قابل اعتماد مشیروں کے سوا کسی اور سے ملاقات سے گریز کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ''بشار الاسد ہر رات اپنے محل کے ایک نئے کمرے میں سوتے ہیں۔ وہ دن کی روشنی میں باہر قدم نہیں رکھتے کیونکہ انھیں یہ خدشہ لاحق ہے کہ وہ کسی اندھی گولی کانشانہ بن سکتے ہیں۔وہ سکیورٹی کے معاملے میں بہت محتاط ہو چکے ہیں''۔

چند ہفتے قبل سرکاری ٹی وی پر نمودار ہونے کے بعد سے وہ منظرعام پر نہیں آئے۔تب انھوں نے کہا تھا کہ وہ شام ہی میں جئیں اور مریں گے اور ملک سے باہر کہیں نہیں جائیں گے۔

مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ایک عہدے دار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ''بشار الاسد کی نقل وحرکت سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ مستقل طور پر خوف کی حالت میں ہیں''۔انھیں یہ خدشہ لاحق ہے کہ انھیں کسی بھی طریقے سے قتل کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے اپنے انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے چند ماہ قبل یہ اطلاع دی تھی کہ شامی صدر بشار الاسد باغی جنگجوؤں اور سرکاری فوج کے درمیان شدید لڑائی کے باوجود ابھی تک دارالحکومت دمشق ہی میں موجود ہیں۔

البتہ گذشتہ ہفتے ان کے بارے میں یہ اطلاع بھی سامنے آئی تھی کہ وہ دمشق اور اس کے آس پاس لڑائی میں شدت کے پیش نظر شام کے جنوب میں واقع اپنے آبائی علاقے کی جانب جا سکتے ہیں جہاں سے وہ علوی فرقے سے تعلق رکھنے والے وفادار فوجیوں اور شبیحہ جنگجوؤں کی مدد سے باغیوں کے خلاف لڑائی جاری رکھ سکتے ہیں لیکن بحران کے پُرامن سیاسی حل کے لیے مذاکرات میں انھیں محفوظ راستہ دینے اور کسی دوسرے ملک میں پناہ لینے کے لیے جانے کی اجازت دینے پر بھی غور کیا جارہا ہے اور اس سے متعلق ان کا حزب اختلاف کے ساتھ کوئی سمجھوتا طے پا سکتا ہے۔تاہم حزب اختلاف انھیں قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔