.

العربیہ کی نامہ نگار کا جنگ زدہ شامی علاقوں کا دورہ، جیش الحر سے ملاقات

شامی فضائیہ کا پہلا مگ لڑاکا جہاز گرانے والے جمال معروف سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی اپوزیشن پر مشتمل جیش الحر کے بارے میں ملک کے اندر یہ تاثر عام ہے کہ یہ لوگ سرکاری فوج سے منحرف اہلکاروں پر مشتمل ہے جبکہ زمینی حقیقت میں یہ شامی سویلنز پر مشتمل لڑاکا بٹالین ہے جسے انہوں نے صدر بشار الاسد حکومت کے خاتمے اور سرزمین کے دفاع کی خاطر تشکیل دیا ہے۔

شام میں موجود العربیہ کی نامہ نگار نے جیش الحر کے بٹالین کمانڈر جمال معروف اور دیگر شامی انقلابیوں سے ملاقات کی۔ جمال معروف پیشے کے اعتبار سے تعمیراتی بزنس سے وابستہ تھے لیکن انقلابی تحریک کے بعد وہ جیش الحر کی شہدائے شام بٹالین کے کمانڈر ہیں۔ انہوں نے مارچ 2012ء میں لبنان سے ملک واپس آ کر شامی جنگجوؤں میں شمولیت اختیار کی۔

انہیں شامی فضائیہ کا پہلا مگ لڑاکا طیارہ مار گرانے کا اعزاز حاصل ہے۔ معروف خطرات سے بے پروا ہو کر اپنی گاڑی میں ان جگہوں کا دورہ کرتا نظر آتے ہیں کہ جہاں وہ چند دن پہلے شامی فوج کے خلاف معرکہ آرائی کرتے رہے ہیں۔ جمال معروف جیش الحر کے اسیر جنگجوؤں کے اہل خانہ کی خبر گیری کے لئے ان کے گھر بھی باقاعدگی سے جاتے ہیں۔

محدود تعداد اور کم تر وسائل کے باوجود انقلابیوں نے حلب کے مضافات میں خان طومان کے اسلحہ گودام کا قبضہ حاصل کر لیا ہے۔ یہاں سٹور اسلحے کی قیمت لاکھوں ڈالر بتائی جاتی ہے۔

تاہم جیش الحر کے اسلحہ گودام پر حملے کے چند ہی گھنٹوں بعد شامی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے حملہ کر کے گودام تباہ کر دیا تاکہ گولا بارود حکومت مخالف جنگجوؤں کے ہاتھ نہ لگے۔

انہوں نے کہا کہ شامی جنگجوؤں کو بشار الاسد کی فضائی برتری ختم کرنے کی خاطر طیارہ شکن توپوں کی ضرورت ہے، تاہم بین الاقوامی برادری ایسا کرنے میں پس و پیش سے کام لے رہی ہے۔