.

جمال عبدالناصر نے یہودیوں کو مصر سے بیدخل نہیں کیا تھا

اخوان المسلمون کے رہنما کا یو ٹرن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ڈاکٹر عصام العریان کا کہنا ہے کہ حکومت ان یہودیوں کے راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گی جو مصر میں اپنے آبائی علاقوں کو واپس آنا چاہتے ہیں۔

فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے نائب صدر اور رکن مجلس شوری ڈاکٹر عصام العریان نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وطن واپسی کاحق مصری یہودیوں کو بھی اسی طرح حاصل ہے جیسے فلسطین کے مسلمامنوں کو اپنی سرزمین پر واپسی کا حق حاصل ہے، انھیں مصر سے جبرا نہیں نکالا گیا تھا وہ جب آنا چاھیں بغیر کسی نئی شرائط کے واپس آ سکتے ہیں۔

ڈاکٹر العریان نے "محور" چینل کے پروگرام '90 منٹ' میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ فلسطینیوں کی انکے اصل وطن میں سکونت چاہتے ہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے فلسطین کے وہ علاقے خالی کرائے جائیں اور ان یہودیوں کونکال باہر کیا جائے جو وہاں غیرقانونی طور پر آباد ہیں۔

پروگرام کے دوران ڈاکٹر العریان نے وضاحت کی کہ صدر جمال عبدالناصر نے مصری یہودیوں کے شہری حقوق مسترد نہیں کئے تھے بلکہ وہ تیسری بغاوت کے بعد ان سے خوفزدہ ضرور تھے۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ یہودیوں کو اپنے آبائی علاقوں کو لوٹنے کی ترغیب دلانا ہو گی اسی میں مسئلہ فلسطین کا پرامن حل مضمر ہے۔

"یہودیوں کی اپنے وطن واپسی کے بعد فلسطینی اپنے وطن میں لا کر بسائے جائیں گے اور انکی اس منتقلی کا معاوضہ یورپی اور امریکی انتظامیہ سے وصول کیا جائے کیونکہ وہ ہی انہیں بیدخل کرانے کے جرم کے اصل ذمہ دار ہیں۔

مصری اخبار"الیوم السابع" کی رپورٹ کے مطابق اخوان کا موقف یہ ہے کہ فلسطین کا دو ریاستی حل بہت پیچیدہ ہے، اسکے لئے ہمیں ستر کی دھائی سے پہلے جیسے حالات پیدا کرنا ہوںگے۔