.

عراقی وزیر اعظم کا خاتون قیدیوں کی رہائی کا حکم

نوری المالکی نے مظاہرین کے مطالبات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے سنی اکثریتی صوبوں میں حالیہ مظاہروں کے بعد دہشت گردی کے الزام میں جیلوں میں بند خواتین کی رہائی کا حکم دے دیا ہے۔

ایک عراقی روزنامے کی رپورٹ کی مطابق ''وزیر اعظم نوری المالکی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ فوجداری الزامات میں گرفتار خواتین کو خصوصی معافی دینے کے لیے تیار ہیں لیکن جن عورتوں نے شہریوں پر دہشت گردی کے حملے کیے ہیں، انھیں سزا دی جانی چاہیے''۔

عراقی حکام نے ملک میں نافذ انسداد دہشت گردی کے قانون کے تحت دہشت گردی کے واقعات میں مبینہ طور پر ملوث افراد کی عزیز واقارب خواتین کو گرفتار کررکھا ہے اور ان خواتین کو کسی عدالتی وارنٹ کے بغیر گرفتار کیا گیا تھا۔

عراق کے سنی اکثریتی مغربی صوبہ الانبار اورتین چار دوسرے صوبوں میں ہزاروں افراد انسداد دہشت گردی کے قانون کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور وہ وزیر اعظم نوری المالکی سے خواتین سمیت سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

قبل ازیں اتوار کو عراق کے نائب وزیراعظم صالح المطلق کے محافظوں نے رمادی میں مظاہرین پر فائرنگ کرکے دو افراد کو زخمی کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین نے نائب وزیر اعظم کے قافلے پر پتھراؤ کیا تھا جس کے جواب میں ان کے محافظوں نے انتباہی فائرنگ کی۔

صالح المطلق رمادی میں مظاہرین سے خطاب کے لیے گئے تھے تاکہ فرقہ وارانہ کشیدگی کا خاتمہ کیا جاسکے۔انھوں نے واقعہ کے بعد ایک بیان میں کہا کہ بعض شرپسندوں نے انھیں قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔بیان کے مطابق ''نائب وزیر اعظم جب مظاہرین کے پاس پہنچے تو انھوں نے ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا لیکن بعض شرپسندوں نے ان پر بزدلانہ حملہ کر دیا اور ان کا مقصد مظاہرین کی توجہ ان کے جائز مطالبے سے ہٹانا تھا''۔

ادھر شمالی شہر موصل میں صوبہ نینویٰ کی کونسل نے اپنے مطالبات کے حق میں تین روزہ ہڑتال کی اپیل کی ہے،کونسل نے بغداد حکومت سے خاتون قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا کہ سنی سیاست دانوں کو ہدف بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

نوری المالکی نے اتوار کو ایک انٹرویو میں مظاہرین پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان مظاہروں کے پیچھے غیرملکی ایجنڈا کار فرما ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''آپ اپنا جو پیغام دینا چاہتے تھے، وہ موصول ہو چکا ہے۔ یہی کافی ہے۔اگر مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا تو اس سے معاملات پیچیدہ ہو جائیں گے''۔

مغربی صوبہ الانبار میں اہل سنت سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد گذشتہ ایک ہفتے سے شیعہ وزیر اعظم نوری المالکی کی پالیسیوں اور وزیر خزانہ رفیع العیساوی کے محافظوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاج مظاہرے کررہے ہیں۔وہ ملک میں نافذ دہشت گردی کے قوانین کی تبدیلی کا مطالبہ کررہے ہیں جو ان کے بہ قول اہل سنت کو دبانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

وزیر خزانہ کے محافظوں کو گذشتہ ہفتے عارضہ قلب میں مبتلا صدر جلال طالبانی کے علاج کے لیے جرمنی روانہ ہونے کے چند گھنٹے کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔ الانبار میں ہزاروں مظاہرین نے صوبائی دارالحکومت رمادی کے نزدیک عراق کو اردن اور شام سے ملانے والی مرکزی تجارتی شاہراہ پر دھرنا دے رکھا ہے اور اسے گذشتہ ہفتے سے ہر قسم کے ٹریفک کی آمدورفت کے لیے بند کر رکھا ہے۔