.

عرب خاتون سیاستدان کو اسرائیل میں پارلیمانی انتخاب لڑنے کی اجازت

سپریم کورٹ کے نو رکنی بنچ کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیلی سپریم کورٹ نے عرب خاتون سیاستدان اور پارلمنٹیرین حنین زعبی کو پیش آئند انتخاب میں شرکت کی اجازت دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کا فیصلہ منسوخ قرار دے دیا ہے۔ یاد رہے حنین زعبی محصورین غزہ کی امداد لانے والے فریڈم فلوٹیلا پر اظہار یکجہتی کے لئے سوار تھیں جس پر اسرائیلی کمانڈوز کے حملے میں نو ترک رضاکار شہید ہوئے۔

یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے نو ججوں پر مشتمل خصوصی بنچ دیا جس کی سربراہی خود سپریم جسٹس اشھر گرونس کر رہے تھے۔

اسرائیل میں عرب اقلیت لیگل سینٹر کے ارکان حسن جابرین اور ساسوان ظاہر نے سپریم کورٹ میں حنین زعبی کے مقدمے کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی حنین کے خلاف پابندی کا اصل محرک ان کی فریڈم فلوٹیلا میں شرکت ہے۔

"فیصلے کے بعد اپنے ایک بیان میں حنین زعبی نے کہا سپریم کورٹ کے میرے حق میں فیصلے سے ثابت ہو گیا ہے کہ مجھے اور میری عرب جماعت کو نااہل قرار دلانے کا محرک سیاسی اور ذاتی زنجشیں تھیں۔"

زعبی کے وکیل نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قراردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ پندرہ برسوں سے کنیسٹ میں عربوں کی نمائندہ سیاسی جماعتوں اور شخصیات کو نااہل قرار دلوانے کے تمام کوششیں انہیں سیاسی عمل سے باہر نکالنے کا منصوبہ تھیں۔

انہوں نے کہا میری مؤکلہ کا کیس اس حوالے سے مختلف تھا کہ اسے کنیسٹ میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ایک جماعت کے سربراہ نے دائر کیا تھا جس کے ذریعے وہ زعبی کو دہشت گرد قرار دلوانا چاہتے تھے حالانکہ حنین زعبی نے کبھی کوئی ایسا جرم نہیں کیا۔