.

2012ء شام میں جاری خانہ جنگی میں شدت، ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ

45 ہزار مقتولین میں سے 90 فی صد گزرے سال میں مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام میں گذشتہ ساڑھے اکیس ماہ سے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران سال 2012ء میں شہریوں کی ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق اب تک پینتالیس ہزار سے زیادہ شہری تنازعے کی نذر ہوچکے ہیں اور ان میں سے نوے فی صد صرف سال گذشتہ میں مارے گئے ہیں۔

آبزرویٹری کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی میں گذشتہ بارہ ماہ کے دوران انتالیس ہزار تین سو باسٹھ افراد مارے گئے ہیں۔ان میں اٹھائیس ہزار ایک سو تیرہ شہری ہیں اور باقی کے سکیورٹی فورسز کے اہلکار یا حکومت کی حامی ملیشیاؤں کے ارکان ہیں جو باغی جنگجوؤں کے ساتھ مختلف شہروں میں جھڑپوں میں مارے گئے۔

آبزرویٹری کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق باغی جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی میں نوہزار چار سو بیاسی سرکاری فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایک ہزار چالیس منحرف فوجی اپنے ہی پیٹی بند بھائیوں کے ساتھ جھڑپوں میں مارے گئے۔تاہم سات سو ستائیس مقتولین کی شناخت نہیں ہوسکی۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ ''سرکاری فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے لیکن حکومت ان کے درست اعداد وشمار کو پردۂ اخفاء میں رکھنے کو ترجیح دیتی ہے''۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ہلاکتوں کے حقیقی اعداد وشمار منظر عام پر آنے کے بعد سرکاری فورسز کا مورال ڈاؤن نہ ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ دوسری جانب باغی جنگجو بھی اپنے حقیقی جانی نقصان کو ظاہر نہیں کرتے تاکہ ان کے ساتھیوں کا مورال بلند رہے اور ان کے شانہ بہ شانہ شامی فوج سے لڑنے والے غیر ملکی جنگجوؤں کی ہلاکتوں کا بھی تذکرہ نہیں کیا جاتا۔

آبزرویٹری کے سربراہ کے بیان کے مطابق''شام میں ہلاکتوں میں اضافہ سرکاری فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپوں کی وجہ سے ہوا ہے جبکہ سرکاری فوج نے کریک ڈاؤن کے طریقوں میں تبدیلی کی ہے اور وہ بھاری ہتھیاروں کے ساتھ جنگی طیاروں کو بھی باغیوں کے خلاف استعمال کررہی ہے۔اس وجہ سے سال 2012ء بہت ہی خونریز اور تباہ کن ثابت ہوا ہے''۔

واضح رہے کہ شامی صدر بشار الاسد کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کا آغاز پُرامن مظاہروں سے ہوا تھا مگر بعد میں یہ رفتہ رفتہ مسلح بغاوت میں تبدیل ہو گئی اور اب یہ تحریک ملک میں مکمل خانہ جنگی کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ شامی فورسز باغی جنگجوؤں کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کر رہی ہیں لیکن اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ فوجیوں کی ایک بڑی تعداد منحرف ہو کر باغی جنگجوؤں سے مل چکی ہے اور ان کی جیش الحر کا اب ملک کے بیشتر شمالی علاقوں پر کنٹرول ہو چکا ہے۔

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی الاخضر الابراہیمی نے بھی یو این جنرل اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے شام میں ہلاکتوں میں ناقابل یقین حد تک اضافے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ شام میں جاری جنگ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔اس خونریزی کے باوجود انھوں نے ایک روز قبل ہی کہا ہے کہ شامی بحران کو بات چیت کے طے کیا جا سکتا ہے۔

حال ہی میں اقوام متحدہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں شامی فوج، حکومت نواز ملیشیا اور باغیوں پر جنگی جرائم میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا ہے لیکن اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ باغی جنگجوؤں نے سرکاری فوج کے مقابلے میں کم تر جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں صدر بشار الاسد کے خلاف ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت میں انسانیت مخالف جرائم کی پاداش میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔