.

انقرہ نے ترک ہوابازوں کی شام میں گرفتاری کی تردید کر دی

شامی اخبار نے ترک پائیلٹ کی حلب میں گرفتاری کا دعوی کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ترک فوج نے ان خبروں کی دوٹوک الفاظ میں تردید کی ہے جن میں دعوی کیا گیا تھا کہ انقرہ کے چار ہواباز شمالی شام میں بشار الاسد کی وفادار فوج نے یرغمال بنا لئے ہیں۔

ترکی کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف سیکرٹریٹ کے اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ بیان کے مطابق "ان معلومات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور یہ قطعی طور پر بے بنیاد ہیں۔" بشار الاسد حکومت کے ہمنوا شامی اخبار 'الوطن' نے اپنی حالیہ اشاعت میں دعوی کیا تھا کہ شامی فوج نے حلب گورنری کے ہوائی اڈے کے قریب چار ترک ہواباز گرفتار کئے ہیں۔ بہ قول اخبار یہ ہواباز حکومت مخالف مسلح گروپ کے ہمراہ ہوائی اڈے میں غیر قانونی طور پر داخلے کی کوشش کر رہے تھے۔

ماضی میں ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت بشار الاسد کی قریبی حلیف رہی ہے لیکن ملک میں عوامی احتجاج کو ریاستی مشینری کے ذریعے روکنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ ترک رہنما بھی دوسرے عرب ملکوں کے ساتھ ملکر بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرنے لگے ہیں۔

مسٹر ایردوآن نے ترکی میں شامی پناہ گزینوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک بشار الاسد کے خلاف عوامی انتفاضہ کی آخری حد تک امداد جاری رکھے گا۔ انہوں نے شام کی موجودہ حکومت کو طاغوت قرار دیا تھا۔ اس وقت تقریباً ڈیڑھ لاکھ شامی اپنے ملک میں جنگ کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لئے ترک علاقے میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔