.

مغربی کنارے کا اقتدار یاہو کے بجائے حماس کے حوالے کیا جائے

ابو مرزوق کی محمود عباس کو تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے سیاسی شعبہ کے ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر موسی ابو مرزوق نے فلسطینی صدر محمود عباس سے کہا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں فلسطینی انتظامیہ کی کمان اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے سپرد کرنے کے بجائے زمام کار حماس کے حوالے کر دیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ڈاکٹر موسی مرزوق نے ابو مازن کو مخاطب کرتے ہوئے پیغام تحریر کیا ہے: "وہ فلسطینی مقتدرہ کی کمان نیتن یاہو کے ہاتھ کیوں دینا چاہتے ہیں؟ کیا ان کے قریب رہنے والے اس حکومت کے زیادہ حقدار نہیں؟"۔ اپنے بیان میں موسی مرزوق نے مزید کہا کہ محمود عباس نے دھمکی دی ہے کہ اگر یہودی آبادکاری کا سلسلہ روکا نہ گیا تو وہ مغربی کنارے کا اقتدار نیتن یاہو کے سپرد کر دیں گے۔۔۔۔انہوں نے آباکاری کے جلو میں امن مذاکرات جاری رکھنے سے انکار کیا، مگر بعد میں سب کچھ فراموش کر کے دوبارہ مذاکرات کی میز سجا لی۔"

انہوں نے کہا کہ بہتر اور سب سے کارگر دھمکی یہ ہوتی اگر وہ مغربی کنارے کا اقتدار حماس کے حوالے کی بات کرتے کیونکہ تنظیم نے صہیونی محاصرے اور کھلی جنگ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس بنا پر وہ مغربی کنارے میں حکومتی امور چلانے کی زیادہ اہل ہے۔

ادھر محمود عباس کی فتح تنظیم نے حماس کے رہنما کے بیانات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا: "کیا حماس مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے تسلسل اور القدس الشریف کو یہودی رنگ میں رنگنے کی کوششوں کے تناظر میں مغربی کنارے کا اقتدار قبول کرنے پر تیار ہے؟"

مغربی کنارے میں فتح کے ترجمان احمد عساف نے کہا کہ موسی مرزوق کا بیان انتہائی خطرناک مضمرات کا حامل ہے کیونکہ اس میں اسرائیل کے لئے پوشیدہ پیغام یہی ہے کہ آپ فکرمند نہ ہوں، فلسطینی اتھارٹی میں ہم آپ کے لئے بہترین متبادل ثابت ہوں گے۔ جن باتوں کو فتح، تنظیم آزادی فلسطین اور فلسطینی اتھارٹی قبول کرنے پر تیار نہیں، حماس انہیں بخوشی گلے سے لگانے کو تیار ہے۔

عساف کے بہ قول حماس کے رہنما کا بیان تنظیم کے علانیہ موقف سے متصادم ہے کہ تنظیم کو اقتدار سے دلچسپی نہیں ہے مگر ڈاکٹر مرزوق کے بیان سے ہوس اقتدار کی بو آتی ہے اور حماس اس اقتدار تک پہنچنے کے لئے کوئی بھی قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔