.

2013ء آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا سال ہےمحمود عباس

فلسطینی قیدی آزاد ہوں گے ،مہاجرین کی واپسی ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ سال 2013ء کے دوران آزاد فلسطینی ریاست قائم ہوگی۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ 2013ء آزادی کا سال ہے۔ اس سال (اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی) قیدی آزاد ہوں گے اور مہاجرین کی ان کے آبائی علاقوں کو واپسی ہوگی۔

انھوں نے یہ بات رام اللہ میں اپنی جماعت فتح کے اڑتالیسویں یوم تاسیس اور نئے سال کے آغاز کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے اپنی تقریر میں گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کا درجہ مبصر سے بڑھ کرغیر مبصرریاست ہوجانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پیدائش کا سرٹیفیکیٹ مل چکا ہے اور اب ہم مکمل آزادی کی جانب اپنی پیش رفت جاری رکھیں گے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کے حق میں ووٹ اور فلسطینیوں کے لیے بھرپور عالمی حمایت کے باوجود اسرائیل نے دریائے اردن کے مغربی کنارے پر قبضہ جاری رکھا ہوا ہے ،صہیونی فوج نے غزہ کی پٹی کا محاصرہ کررکھا ہے۔مشرقی القدس کو اپنی ریاست میں ضم کرلیا ہے اور اس نے مغربی کنارے کے کم وبیش تمام علاقے ہی میں یہودی آباد کاری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

فتح تحریک منگل کو حماس کے زیرنگیں غزہ کی پٹی میں بھی پانچ سال کے بعد پہلی مرتبہ اپنا یوم تاسیس منا رہی ہے۔مصر کی ثالثی میں حماس اور فتح کے درمیان اپریل 2011ء میں مصالحتی معاہدہ طے پایا تھا لیکن اس کی شرائط پر ابھی تک عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

محمود عباس نے فلسطینیوں کے درمیان اتحاد کے لیے اس معاہدے پر عمل درآمد کی ضرورت پر زوردیا تا کہ فلسطین کو غیر مبصررکن ریاست بنائے جانے کے بعد حاصل ہونے والی عالمی حمایت سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔واضح رہے کہ فتح تحریک فلسطین کے لیجنڈ مرحوم لیڈر یاسر عرفات کی قیادت میں یکم جنوری 1965ء کو قائم کی گئی تھی۔ابتداء میں یہ ایک مسلح مزاحمتی تنظیم تھی لیکن رفتہ رفتہ اس نے اسرائیل کے خلاف جدوجہد میں مکمل سیاسی راستہ اپنا لیا اورمسلح مزاحمت کو خیرباد کہہ دیا۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے اسی ہفتے دھمکی دی تھی کہ اگر ان کا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعطل ختم نہیں ہوتا اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری کا سلسلہ جاری رہا تو وہ فلسطینیوں کی ذمے داری بھی انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سونپ دیں گے۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کا سلسلہ جاری رہنے کی وجہ سے گذشتہ دوسال سے دوطرفہ مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔اس تناظر میں فلسطینی قیادت نے اپنی ریاست کے قیام اور اس کو تسلیم کرانے کے لیے دوسرے آپشنز پر کام شروع کردیا تھا اور گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو مبصر سے غیررکن ریاست کا درجہ دے دیا تھا۔

فلسطین کو اقوام متحدہ میں غیر رکن ریاستی مبصر کا درجہ ملنے کے بعد سے اسرائیل نے مقبوضہ القدس اور مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کا عمل تیز کررکھا ہے۔صرف گذشتہ دوہفتے میں اسرائیل نے مشرقی القدس کے آس پاس کے علاقوں میں پانچ ہزار تین سو پچاس نئے مکانوں کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔1967ء کی جنگ میں القدس پر اسرائیل کے قبضے کے بعد سے اس طرح اتنی زیادہ تعداد میں یہودی آبادکاروں کے لیے مکانوں کی تعمیر کے منصوبوں کی منظوری کی مثال نہیں ملتی۔