.

اسرائیل کے خاتمے سے متعلق اخوانی رہنما کے بیان پر صہیونی حلقے پریشان

مصری ایوان صدر کا ڈاکٹر عصام العریان کے بیان سے اظہار لاتعلقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیل کے سیاسی حلقوں نے مصر میں حکمران جماعت فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین اور پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر عصام العریان کے اس بیان پر انتہائی مایوسی کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے دس برسوں کے اندر صہیونی ریاست کے زوال کی 'پیس گوئی' کی تھی۔

اسرائیلی ریڈیو کے مطابق تل ابیب نے مملکت مصر کی قانونی حیثیت میں کبھی شک نہیں کیا۔ اسے بھی امن معاہدے کی توثیق کرنے والی مصری ریاست سے ایسے ہی رویے کی توقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات تشویش پیدا کرتے ہیں۔ ان سے دونوں ملکوں میں معاندانہ ماحول کو ہوا ملتی ہے۔

یاد رہے ڈاکٹر العریان نے آئندہ 10 برسوں میں اسرائیل کے زوال کے بارے میں بیان دیتے ہوئے مقبوضہ فلسطین میں آباد یہودیوں سے کہا تھا کہ وہ اپنے اصل وطن مصر واپس لوٹ آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی اپنے وطن واپسی کی راہ میں ایسے یہودی حائل ہیں کہ جو دوسرے ملکوں سے دنیاوی لالچ میں اسرائیل منتقل ہو گئے تھے۔

ڈاکٹر عصام العریان کے مصر سے اسرائیل میں آباد ہونے والے یہودیوں کو دوبارہ مصر واپسی سے متعلق بیان پر ملک میں بہت زیادہ لے دے ہو رہی ہے حالانکہ ایوان صدر نے ان کے بیان سے بالواسطہ لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ ڈاکٹر العریان اگرچہ صدر محمد مرسی کے مشیر ہیں تاہم ان کا بیان ایوان صدر کی ترجمانی نہیں کرتا۔