.

حماس مغربی کنارے سے محمود عباس کو نکال سکتی ہے نیتن یاہو

سیاسی مقاصد کے لیے اسرائیلی وزیرا عظم کے مزعومہ خدشات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
انتہا پسند اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ حماس فلسطینی صدر محمود عباس کو مغربی کنارے سے بھی نکال باہر کر سکتی ہے بالکل اسی طرح جس طرح اس نے 2007ء میں غزہ کی پٹی سے محمود عباس کی 'فتح' تنظیم کا صفایا کر دیا تھا۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق نیتن یاہو نے یہود بائبل اسٹڈی سرکل کے ارکان سے مقبوضہ بیت المقدس میں اپنی رہائش گاہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہر کسی کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ حماس فلسطینی اتھارٹی کا کنٹرول سنبھال سکتی ہے''۔

مسٹر نیتن یاہو کے بہ قول ''یہ وقوعہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن معاہدے کے بعد رونما ہو سکتا ہے یا یہ معاہدہ طے پانے سے قبل بھی ایسا رونما ہو سکتا ہے بالکل جس طرح غزہ میں رونما ہوا تھا''۔

انتہا پسند صہیونی وزیر اعظم نے اپنے اس مزعومہ خدشے کا اظہار اسرائیل میں عام انتخابات کے انعقاد سے تین ہفتے قبل کیا ہے۔ان انتخابات میں نیتن یاہو کی جماعت کی پوزیشن بہتر بتائی جاتی ہے۔ انھیں یہودی آبادکاروں کی قوم پرست مذہبی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''میں نے حال ہی میں جو آوازیں سنی ہیں، ان میں مجھ پر زور دیا گیا ہے کہ میں (امن عمل کی بحالی کے لیے) تیز رفتار پیش قدمی کروں اور رعایتیں دوں، انخلاء کیا جائے لیکن میرے خیال میں سفارتی عمل کا ذمے داری اور عقل مندی سے انتظام کیا جانا چاہیے اور غیر ضروری عجلت کا مظاہرہ نہیں کیا جانا چاہیے''۔

وہ صدر شمعون پیریز کی جانب سے فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کی بحالی اور ان کے ساتھ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے سے متعلق بیان پر تبصرہ کر رہے تھے۔ اسرائیل کے ''فاختہ'' قرار دیے جانے والے بے اختیار علامتی صدر نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کے ساتھ امن بات چیت بحال کرنی چاہیے۔

انھوں نے کہا تھا کہ محمود عباس کے ساتھ کوئی امن معاہدہ طے پا سکتا ہے اور اس میں اب کوئی بہت زیادہ وقت نہیں رہ گیا ہے۔ انھوں نے سوموار کو ایک اور بیان میں کہا تھا کہ ''اگر حماس تشدد کی مذمت کرتی ہے تو پھر اس کے بعد اس کے ساتھ مذاکرات سے انکار کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا''۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کا سلسلہ جاری رہنے کی وجہ سے گذشتہ دو سال سے دوطرفہ مذاکرات معطل ہیں۔ فلسطینی صدر محمود عباس یہودی آبادکاری جاری رہنے کی صورت میں اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کر چکے ہیں۔ اس تناظر میں فلسطینی قیادت نے اپنی ریاست کے قیام اور اس کو تسلیم کرانے کے لیے دوسرے آپشنز پر کام شروع کر دیا تھا اور گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو مبصر سے غیر رکن ریاست کا درجہ دے دیا تھا۔

فلسطینیوں کی عالمی محاذ پر اس کامیابی کے بعد سے اسرائیل نے مقبوضہ القدس اور مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کا عمل تیز کر رکھا ہے۔صرف گذشتہ تین ہفتے کے دوران اسرائیل نے مشرقی القدس کے آس پاس کے علاقوں میں پانچ ہزار تین سو پچاس نئے مکانوں کی تعمیر کی منظوری دی تھی۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے گذشتہ ہفتے دھمکی دی تھی کہ اگر ان کا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعطل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری کا سلسلہ جاری رہا تو وہ فلسطینیوں کی ذمے داری بھی انتہا پسند اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو سونپ دیں گے۔ محمود عباس نے کہا کہ ''اسرائیل میں نئی حکومت کے قیام کے بعد نیتن یاہو کو ہاں یا ناں میں سے ایک کا فیصلہ کرنا ہو گا''۔