.

دمشق کے نواح میں پیٹرول اسٹیشن پر فضائی حملہ، 30 شہری ہلاک

شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی میں 60 ہزار ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقے میں اسدی فوج نے فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں کم سے کم تیس شہری ہلاک اور بیسیوں زخمی ہو گئے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق ملک میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی میں 60 ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں۔

شامی کارکنان کی اطلاع کے مطابق سرکاری فوج کے جنگی طیارے نے بدھ کی دوپہر ایک بجے کے قریب دمشق کے نواحی علاقے الملیحہ میں ایک پیٹرول اسٹیشن پر بمباری کی ہے جس سے وہاں موجود افراد زندہ جل گئے یا ان کے چیتھڑے اڑ گئے ہیں۔ سعید نامی ایک کارکن نے بتایا کہ روسی ساختہ مِگ طیارے نے پیٹرول اسٹیشن پر میزائل فائر کیا تھا۔

ابو فواد نامی ایک اور کارکن نے بتایا کہ جنگی طیارے نے پیٹرول اسٹیشن پر ایندھن کی آمد کے بعد وہاں کھڑے لوگوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس وقت موٹرسائیکل سوار اور کارسوار پیٹرول لینے کے انتظار میں قطاروں میں کھڑے تھے۔ بمباری کے بعد پیٹرول اسٹیشن پر آگ لگ گئی اور وہاں کھڑے لوگ اس کی لپیٹ میں آ گئے۔ شامی فوج کا گذشتہ کئی ہفتوں کے بعد یہ سب سے تباہ کن حملہ تھا۔

الملیحہ کے علاقے میں اہل سنت اکثریت میں آباد ہیں اور اس علاقے میں صدر بشار الاسد کے مخالفین کا اثرورسوخ ہے جبکہ شامی صدر کی وفادار فورسز کا دمشق کے وسطی علاقوں میں ہی کنٹرول رہ گیا ہے۔ آج شام کے دوسرے علاقوں میں سرکاری فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں اور تشدد کے واقعات میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

شام میں 60 ہزار ہلاکتیں

درایں اثناء اقوام متحدہ نے اپنی جاری کردہ ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ شام میں گذشتہ ساڑھے اکیس ماہ سے جاری خانہ جنگی میں ساٹھ ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں اور ہر ماہ شامیوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔

اقوام متحدہ کے تحت آزاد ماہرین نے سات مختلف ذرائع کے شام میں جاری خانہ جنگی میں ہلاکتوں کے فراہم کردہ اعداد وشمار کا تجزیہ کیا ہے۔ ان ذرائع نے ایک لاکھ سینتالیس ہزار تین سو انچاس ہلاکتوں کی اطلاع دی تھی۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کی جانب سے قائم کردہ کمیشن ان ہلاکتوں کے جائزے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ شام میں 15 مارچ 2011ء سے 30نومبر2012ء تک 59648 افراد تشدد کے واقعات میں مارے گئے تھے۔ ان تمام مقتولین کے نام، پتے اور ان کی موت کی تفصیل سب موجود ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر مس نیوی پلے نے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''نومبر کے اختتام تک تنازعے کے خاتمے کے کوئی آثار نہیں تھے اور ہم یہ فرض کر سکتے ہیں کہ نئے سال کے آغاز تک شام میں ساٹھ ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں اور یہ ہلاکتیں ہماری توقع سے کہیں زیادہ ہیں۔

مس نیوی پلے کا کہنا تھا کہ عالمی برادری اور خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل شام میں خونریزی رکوانے میں ناکام رہی ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ تنازعہ اسی طرح جاری رہا تو ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور ہزاروں لوگ شدید زخمی ہو کر ہمیشہ کے لیے معذور بھی ہو جائیں گے۔ انھوں نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ شام میں جنگی جرائم میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

اقوام متحدہ کی مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور سال 2011ء کے موسم بہار میں جب صدر بشار الاسد کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کا آغاز ہوا تھا تو ہر ماہ اوسطاً ایک ہزار افراد مارے جارہے تھے لیکن ڈیڑھ ایک سال کے بعد یہ تعداد اوسطاً پانچ ہزار ماہانہ بن چکی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں وسطی صوبے حمص میں ہوئی ہیں۔ اس کے بعد دمشق کے دیہی علاقوں، شمالی صوبوں ادلب اور حلب، وسطی اور جنوبی صوبوں درعا اور حماہ میں سرکاری فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان خونریز لڑائی میں ہزاروں افراد مارے گئے ہیں۔ مہلوکین میں تین چوتھائی مرد حضرات ہیں۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے دو روز قبل ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ شام میں گذشتہ ساڑھے اکیس ماہ سے صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران سال 2012ء میں شہریوں کی ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب تک پینتالیس ہزار سے زیادہ شہری تنازعے کی نذر ہو چکے ہیں۔ ان میں سے نوے فی صد صرف سال گذشتہ میں مارے گئے ہیں۔

آبزرویٹری کے مطابق سال گذشتہ کے دوران انتالیس ہزار تین سو باسٹھ افراد مارے گئے ہیں۔ان میں اٹھائیس ہزار ایک سو تیرہ شہری ہیں اور باقی کے سکیورٹی فورسز کے اہلکار یا حکومت کی حامی ملیشیاؤں کے ارکان ہیں جو باغی جنگجوؤں کے ساتھ مختلف شہروں میں جھڑپوں میں مارے گئے۔آبزرویٹری کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق باغی جنگجوؤں کے ساتھ لڑائی میں نو ہزار چار سو بیاسی سرکاری فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایک ہزار چالیس منحرف فوجی اپنے ہی پیٹی بند بھائیوں کے ساتھ جھڑپوں میں مارے گئے۔تاہم سات سو ستائیس مقتولین کی شناخت نہیں ہو سکی تھی۔