.

شام کے ایک اور جرنیل سمیت متعدد اعلیٰ فوجی افسر منحرف

باغی فوجیوں کی ترکی میں آمد کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے ایک جنرل سمیت قریباً بیس فوجیوں پر مشتمل ایک گروپ منحرف ہو کر ترکی کے سرحدی صوبے حاتے میں پہنچ گیا ہے۔

ترکی کے ایک سفارت کار نے بدھ کو بتایا ہے کہ شامی فوج کو چھوڑ کرمنگل کو ترکی پہنچنے والوں میں ایک جنرل، تین کرنل اور متعدد دوسرے افسر شامل ہیں۔ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناطولیہ کی رپورٹ کے مطابق منگل کو منحرف شامی فوجیوں اور ان کے خاندانوں پر مشتمل قریباً چالیس افراد سرحد عبور کر کے ترکی کے جنوبی صوبے حاتے میں پہنچے تھے اور انھیں منحرف فوجیوں کے لیے مخصوص مہاجر کیمپ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف جاری مسلح جدوجہد کے آغاز کے بعد سے اب تک سیکڑوں فوجی منحرف ہو کر باغیوں کے ساتھ مل چکے ہیں یا سرحد عبور کر ترکی جاچکے ہیں۔ان میں چالیس جرنیلوں سمیت بیسیوں اعلیٰ فوجی افسر شامل ہیں۔

ترکی نے ابھی تک ان منحرف فوجیوں کی حقیقی تعداد تو نہیں بتائی لیکن اس وقت شام کے ساتھ سرحدی علاقوں میں قائم کیے گئے مہاجر کیمپوں میں ڈیڑھ لاکھَ سے زیادہ رجسٹرڈ شامی مہاجرین رہ رہے ہیں۔

گذشتہ ہفتے شامی فضائیہ کے دوجرنیل منحرف ہوکر حزب اختلاف کے ساتھ مل گئے تھے۔یہ دونوں جرنیل شام کی ریجنل ائیر فورس کے کمانڈرز ہیں۔وہ سرحد پار کرکے ترکی کے جنوبی قصبے ریحان علی میں پہنچے تھے۔ان دونوں جنرلوں اور نچلے گریڈ کے دسیوں افسروں اوران کے خاندانوں کو فوجی منحرفین کے لیے مخصوص کیمپ میں منتقل کردیا گیا تھا۔واضح رہے کہ ترک حکام اب تک شامی فوج کے منحرف جرنیلوں میں سے بعض شام میں واپس آکر باغی جنگجوؤں کے شانہ بشانہ سرکاری فوج کے خلاف لڑرہے ہیں۔

شام کے تین سرکاری صحافیوں نے بھی گذشتہ ہفتے صدر بشارالاسد کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا تھا۔العربیہ کے نمائندے نے پیرس سے اطلاع دی ہے کہ شام کے سرکاری ریڈیو سانا کے ڈائریکٹر پروگرامنگ جمال بیک ،سانا کی آن لائن نیوز ویب سائٹ کے ساتھ وابستہ لماء الخضریٰ بدور اور عبدالکریم نے بتایا کہ اس وقت دمشق میں سرکاری میڈیا صدر اسد کی وفادارشبیحہ فورسز کی آماج گاہ بن چکا ہے اور ان کے محاصرے میں ہے۔

دسمبر کے آخری ہفتے میں شام کی ملٹری پولیس کے سربراہ میجر جنرل عبدالعزیزجاسم الشلال بھی منحرف ہوکر ترکی چلے گئے تھے اور انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر بشار الاسد کی وفادار فوج ایک گینگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔وہ شامی عوام کو دہشت زدہ کرنے کے علاوہ ان کا قتل عام کر رہی ہےاوران کے دیہات اور شہروں کو تباہ کر رہی ہے۔