.

شام کو تقسیم کے خطرے کا سامنا ہے سربراہ حزب اللہ

ہم کسی بھی عرب یا اسلامی ملک کی تقسیم کے خلاف ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سربراہ شیخ حسن نصراللہ نے ایک نشری تقریر میں خبردار کیا ہے کہ خانہ جنگی کا شکار شام کو تقسیم کی اسکیموں کے خطرے کا سامنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم بنیادی اور نظریاتی طور پر کسی عرب یا اسلامی ملک کی کسی بھی شکل میں تقسیم کے خلاف ہیں اور ان پر زوردیتے ہیں کہ وہ اپنا اتحاد برقرار رکھیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''یمن سے عراق اور وہاں سے شام تک اس پورے خطے کو پہلے سے کہیں زیادہ تقسیم کے خطرے کا سامنا ہے۔حتیٰ کہ مصر ،لیبیا اور سعودی عرب کی تقسیم کا خطرہ بھی موجود ہے''۔

شیخ حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ ''ہم لبنان اور خطے میں ایک خطرناک مرحلے سے گزررہے ہیں۔ہم کشیدگی کے ماحول میں رہ رہے ہیں''۔انھوں نے اپنی تقریر میں مغربی اور عرب حکومتوں کو لبنان میں شامی مہاجرین کی سیلاب کی طرح آمد کا ذمے دار قرار دیا جو ان کے بہ قول شام کی حزب اختلاف کو مسلح کرنے کے ذمے دار ہیں۔

انھوں نے خبردار کیا کہ اگر فوجی حل ہی کو ناگزیر سمجھا گیا تو پھر ایک لمبی جنگ ہوگی۔انھوں نے لبنانی حکومت پر زوردیا کہ وہ ایک ٹھوس موقف اختیار کرے کیونکہ ان کے بہ قول لبنان تنازعے کی سماجی ،انسانی اور سیاسی لاگت برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

حزب اللہ کے سربراہ نے لبنانی حکومت پر زوردیا کہ وہ شام میں سات ماہ قبل اغوا کیے گئے اپنے شہریوں کی بہ حفاظت بازیابی کے لیے اپنا ایلچی ترکی بھیجے اور اغوا کاروں کے ساتھ براہ راست سلسلہ جنبانی شروع کرے۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت ہم ترکوں کے ساتھ ان لبنانیوں کی بازیابی کے لیے بات چیت کررہے ہیں لیکن اس کے کوئی نتائج برآمد نہیں ہوئے۔واضح رہے کہ شام کے شمالی شہر حلب کے نواح میں گیارہ لبنانی شیعہ زائرین کے ایک گروپ کو گذشتہ سال بائیس مئی کو اغوا کر لیا گیا تھا۔وہ ایک گاڑی میں سوار ہوکر ایران سے واپس لبنان آرہے تھے۔ان میں سے صرف دو کو بعد میں رہا کردیا گیا تھا۔

العربیہ کے ہاتھ لگنے والی بعض خفیہ دستاویزات کے مطابق لبنان کی شیعہ ملیشیا شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کو دبانے کے لیے فعال کردار ادا کرتی رہی ہے اور اس کے کارکنان پر شام کے باغی جنگجوؤں کے خلاف اسدی فورسز کے شانہ بہ شانہ کریک ڈاؤن میں کردار کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے۔