.

عراق کار بم دھماکے میں 20 شیعہ زائرین کی ہلاکت

مرنے والوں میں خواتین اور بچے شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق کے جنوبی قصبے مسیّب میں ایک بس اڈے پر کار بم دھماکے کے نتیجے میں بیس شیعہ زائرین ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔

عراقی حکام کی اطلاع کے مطابق دارالحکومت بغداد سے ساٹھ کلومیٹر جنوب میں واقع قصبے مسیّب میں شیعہ زائرین کو بم حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ وہ جنوبی شہر کربلا میں شہدائے کربلا کے چہلم کے سلسلہ میں منعقدہ تقریبات میں شرکت کے بعد واپس پہنچے تھے۔

مسیّب کے بس اڈے میں بارود سے بھری کار کو جمعرات کی دوپہر دھماکے سے اڑایا گیا۔ اس وقت زائرین کربلا سے آنےوالی بسوں سے اتر کر دوسرے شہروں کو جانے والی بسوں میں سوار ہو رہے تھے۔ پولیس نے بم دھماکے میں بیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔زخمیوں کو مسّیب کے اسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق بم دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس میں متعدد کاریں ،بسیں اور قریبی مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔دھماکے کے بعد ہر طرف افراتفری پھیل گئی اور خواتین حواس باختگی کے عالم میں اپنے بچوں کو ادھر ادھر تلاش کرتی دیکھی گئیں۔ فوری طور پر کسی گروپ نے اس کار بم حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی۔