.

اخوان المسلمون پر اوباما انتظامیہ سے ڈیڑھ ارب ڈالرز لینے کا الزام

مصری وکلاء کی میٹ رومنی کے بیان پر مبنی درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے بعض وکلاء نے ملک کی سب سے بڑی اور منظم سیاسی قوت اخوان المسلمون پر امریکی صدر براک اوباما کی حکومت سے دس ارب مصری پاؤنڈز (ڈیڑھ ارب امریکی ڈالرز) وصول کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

مصر کے پراسیکیوٹر جنرل طلعت عبداللہ نے وکلاء کی جانب سے دائر کردہ اس درخواست پر فوری طور پر تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

ایک آزاد روزنامے 'المصری الیوم' کی اطلاع کے مطابق دو وکلاء محمد علی عبدالوہاب اور یاسر محمد سیاب نے اخوان المسلمون کے خلاف یہ درخواست دائر کی ہے اور اس میں اخوان المسلمون پر امریکا سے غیر قانونی طور پر رقوم وصول کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

درخواست میں امریکا کی ری پبلکن پارٹی کے ناکام صدارتی امیدوار میٹ رومنی کے ایک بیان کو اخوان المسلمون کے خلاف الزام کی بنیاد بنایا گیا ہے۔اس میں انھوں نے امریکی صدر براک اوباما پر اخوان المسلمون کو ڈیڑھ ارب ڈالرز کی امداد دینے کا الزام عاید کیا تھا۔

اس کے علاوہ ان وکلاء نے اخوان المسلمون پر یہ بھی الزام عاید کیا ہے کہ اس نے مسلح شرپسند یا ایک تیسرا فریق بھی پال رکھا ہے جو مصر میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف انقلابی تحریک کے دوران اور اس کے بعد تشدد کو ہوا دیتا رہا ہے۔

وکلاء نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ ''ان مسلح شرپسندوں کو مصر کے ساحلی شہر اسکندریہ اور مرسا مطروح کے درمیان واقع صحرائی علاقے میں تربیت دی گئی تھی''۔فوری طور پر اخوان المسلمون کی جانب سے وکلاء کے ان الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔