.

ایاد علاوی نے عراقی وزیر اعظم سے استعفی کا مطالبہ کر دیا

48 گھنٹوں میں العراقیہ اتحاد اسمبلی تحلیل کی کال دے سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق میں العراقیہ لسٹ اتحاد کے سربراہ ایاد علاوی نے وزیر اعظم نوری المالکی پر رکیک حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک کسی ایک شخص کی جاگیر نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ المالکی حکومت معاشرتی، معاشی، سیکیورٹی اور عوام کو سہولیات فراہمی کے سلسلے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ ریڈیکل تبدیلیاں لانے کی خاطر موجودہ حکومت کو گھر بھیجنا ضروری ہو گیا ہے۔

عراق کے مختلف شہروں بشمول الانبار میں جمعہ کے روز نوری المالکی حکومت کے خلاف بڑے احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ حکومت سنی مسلک قیدیوں کو رہا کرے۔ دہشت گردی کے قانون کا خاتمہ کیا جائے۔ نیز اہل سنت کے خلاف معاندانہ رویے میں اصلاح کی جائے۔

ادھر ایاد علاوی کی قیادت میں سرگرم العراقیہ اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ 48 گھنٹوں کے اندر پارلیمنٹ کی تحلیل کی کال دیں گے۔ اتحاد کے مطابق نوری المالکی کی حکومت سے تمام اختیارات واپس لے لئے جائیں گے۔

جمعہ کے روز ہونے والے مظاہروں میں عرب بہاریہ کے مقبول عام نعرہ 'عوام حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں' کی گونج سنائی دیتی رہی۔ المالکی حکومت کے خلاف عوامی تحریک کا مرکزی نقطہ الانبار ہے جو گزشتہ دو ہفتوں سے جاری ہے۔

الانبار کے صدر مقام رمادی میں جمعہ کے روز دو لاکھ مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور شہر کے متعدد علاقوں میں احتجاجی مظاہرین مساجد کے باہر جمع ہوئے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ اتحادی پولیس کی جگہ شہری پولیس تعینات کی جائے۔

مظاہروں کا سلسلہ ان علاقوں تک بھی پھیل گیا ہے جہاں ماضی میں ایسی سرگرمیاں نہیں دیکھی گئیں۔ بغداد کے وسط الاعظمیہ میں ہزاروں افراد نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ بغداد کے ساتھ ہی الفلوجہ، سامرا، تکریت اور دیالی میں بھی ایسے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ دیکھا گیا۔

ان مظاہروں کی شان نزول عراقی حکام کی جانب سے سنی مسلک وزیر مالیات کے متعدد سیکیورٹی گارڈز کو حراست میں لیا جانا بتایا جاتا ہے۔ ان پر الزام دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔