.

شام میں ایرانی بیلسٹک میزائل کے استعمال پر امریکی تشویش

دمشق میں جیس الحر کے چار ٹھکانوں پر 4 'فاتح' میزائلوں کا حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ شامی حکومت سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لئے ایرانی ساختہ 'فاتح' میزائل استعمال کر رہی ہے۔ مبینہ طور پر ایرانی 'فاتح' روسی ساختہ 'سکڈ میزائل' سے زیادہ تیر بہ ہدف ہتھیار ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت کے بعد حکام خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ شامی حکومت اپوزیشن کو نیچہ دکھانے کے لئے پاگل پن کی حد تک جا سکتی ہے اور عین ممکن ہے کہ ایرانی فاتح میزائلوں کے استعمال سے بشار الاسد مخالفین کے خلاف کیمیائی اسلحہ استعمال کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہو۔

امریکی حکام نے بتایا کہ گزشتہ برس دسمبر میں بشار الاسد حکومت کی جانب سے ایرانی ساختہ بیلسٹک میزائل استعمال کرنے کی خبروں کے بعد واشنگٹن میں خطرے کے سائرن بج اٹھے ہیں۔

بشار الاسد فوج نے چار فاتح میزائل دمشق کے مضافاتی علاقوں میں جیش الحر کے ٹھکانوں پر فائر کئے ہیں۔ انسانی حقوق کے رضاکاروں نے تصدیق کی ہے کہ ایسے ہی میزائل حلفایا میں بیکری پر حملے میں استعمال کئے گئے تھے جس میں کم سے کم 200 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ اس حملے کو واشنگٹن نے بشار الاسد کی جانب سے مخالفین کو تہ تیغ کرنے کے لئے مہلک اسلحہ استعمال کی شروعات قرار دیا ہے۔

ایرانی ساختہ 'فاتح 110' زمین سے زمین تک مار کرنے والا میزائل ہے۔ تین ٹن وزنی یہ ہتھیار نصف ٹن وزنی دھماکا خیز مواد ہیڈ میں لیجانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ درمیانے درجے تک اپنے ہدف کو انتہائی کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت کی وجہ سے فاتح میزائل روسی ساختہ سکڈ سے بھی زیادہ صلاحیت کا حامل ہتھیار ہے۔

جن امریکی انٹلیجنس اداروں نے شام میں ایرانی فاتح کے استعمال کی تصدیق کی ہے وہ ابھی میزائل کا نشانہ بننے والی جگہ کا تعین کرنے میں کوشاں ہیں تاکہ اس سے پہنچنے والے انسانی نقصانات کے حجم کا اندازہ لگایا جا سکے۔