.

بشارالاسد کا کٹھ پتلی اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات سے انکار

''بات چیت کے لیے کوئی حقیقی شراکت دار نہیں ملا''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی صدر بشار الاسد نے ایک امن منصوبے کا اعلان کیا ہے اور انھوں نے شام سے غداری نہ کرنے والوں کی قومی مصالحتی کانفرنس بلانے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے بعدان کے بہ قول ایک نئی حکومت تشکیل دی جائے گی اور عام معافی کا اعلان کیا جائے گا۔

انھوں نے اتوار کو دمشق میں ایک عوامی تقریر میں کہا کہ اس امن منصوبے کے پہلے اور سیاسی مرحلے کے تحت علاقائی قوتیں حزب اختلاف کو مالی امداد دینے اور مسلح کرنے کا سلسلہ بند کر دیں۔ دہشت گردی کی کارروائیوں کا خاتمہ کیا جائے اور سرحدوں کو کنٹرول کرنے کا سلسلہ ختم ہو جائے تو قومی مذاکرات منعقد کیے جا سکتے ہیں۔

تاہم انھوں نے واضح کیا کہ ''ہم مغرب کی کٹھ پتلی حزب اختلاف کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کریں گے''۔ان کے بہ قول ان کی حکومت کو گذشتہ ساڑھے اکیس ماہ سے جاری تنازعے کو طے کرنے کے لیےکوئی بھی شراکت دار نہیں ملا ہے۔

دار الاسد مرکز برائے ثقافت اور فنون میں تقریر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ''ہمیں شراکت دار کی عدم دستیابی کا یہ مطلب نہیں کہ ہم بحران کے سیاسی حل میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ اس مقصد کے لیے ہم کسی حقیقی شراکت دار کو تلاش نہیں کر سکے ہیں''۔

بشار الاسد کا کہنا تھا کہ ''تنازعہ حکومت اور حزب اختلاف نہیں ہے بلکہ یہ قوم اور اس کے دشمنوں کے درمیان ہے''۔انھوں نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ ان کے ملک کو جہادی عناصر کے حملوں کا سامنا ہے اور اس بحران کو کسی مقبول تحریک کے ذریعے ہی طے کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ جون کے بعد یہ ان کی پہلی عوامی تقریر تھی۔اس دوران وہ صدارتی محل ہی میں گوشہ نشین رہ کر سکیورٹی فورسز کو اپنی حکومت کے خلاف جاری مسلح عوامی بغاوت کو کچلنے کے لیے احکامات جاری کرتے رہے ہیں۔ وہ ماضی میں بھی اپنی تقریروں میں جہادی عناصر اور قاتل مجرموں کے خلاف اپنی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کا تذکرہ کرتے رہے ہیں اور وہ اس زمینی حقیقت کی تردید کرتے چلے آرہے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی عوامی بغاوت برپا ہے۔

بشارالاسد نے ایک مرتبہ پھر اپنی اس تقریر میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ کسی سے ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔انھوں نے تمام شامیوں پر زوردیا کہ وہ ملک میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے ان کے امن منصوبے میں حصہ لیں۔تاہم انھوں نے اپنے اس مبہم منصوبے کی تفصیل نہیں بتائی۔

انھوں نے پوری شامی قوم پر زور دیا کہ وہ باغیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہو۔انھوں نے باغیوں کو القاعدہ کے دہشت گرد قرار دیا اور کہا کہ جب ملک کی شاہراہوں اور گلیوں بازاروں میں سکیورٹی اور استحکام نہ ہو تو پھر خوشیوں کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں رہتی۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک تمام لوگوں کے لیے ہے اور ہمیں اس کا تحفظ کرنا ہے۔

اس سے پہلے نومبر میں شامی صدر روس کے ملکیتی بین الاقوامی ٹی وی چینل آر ٹی وی کو انٹرویو دیا تھا اور اس میں انھوں نے ان اطلاعات کو مسترد کردیا تھا کہ وہ محفوظ رخصتی چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان کا جینا اور مرنا شام کے ساتھ وابستہ ہے۔ وہ اپنے ملک ہی میں زندہ رہیں اور مریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''میں کٹھ پتلی نہیں ہوں، مجھے مغرب نے نہیں بنایا کہ میں مغرب یا کسی اور ملک میں چلا جاؤں۔ میں شامی ہوں، مجھے شام نے بنایا۔میں شام ہی میں زندہ رہوں گا اور شام ہی میں مروں گا''۔ بشار الاسد نے شام میں غیر ملکی مداخلت پر خبردار کیا تھا کہ ''اس سے علاقائی استحکام بھی اتھل پتھل ہو جائے گا''۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق شام میں مارچ 2011ء کے وسط سے صدر بشار الاسد کے خلاف جاری مسلح عوامی بغاوت اور خانہ جنگی میں ساٹھ ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد شامی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ماری گئی ہے۔