شامی حزب اختلاف نے صدراسد کا امن منصوبہ مسترد کردیا

''بشارالاسد نےتقریرمیں ماضی کے خالی وعدوں کا اعادہ کیا''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

درایں اثناء برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے شامی صدر کی تقریر پر ایک ٹویٹر پیغام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اصلاحات کے خالی وعدے کیے ہیں۔ان سے کوئی بھی بے وقوف نہیں بنے گا جبکہ انھوں نے شام کو آگ میں جھونک دیا،لوگوں کو موت اور تشدد کا شکار کیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن نے برسلز میں ایک بیان میں کہا کہ اگر شامی صدر کی تقریر میں کوئی نئی بات ہوتی تو ہم اس کا باریک بینی سے جائزہ لیتے۔ہمارا یہ موقف ہے کہ بشارالاسد اقتدار چھوڑ دیں اور سیاسی انتقال اقتدار کے عمل کو رونما ہونے دیں۔

ترک وزیرخارجہ احمد داؤد اوغلو نے بھی شامی صدر بشارالاسد کی تقریر کو ماضی کے الفاظ کی نقالی قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ شامی صدر نے اپنی تقریر میں خالی وعدوں ہی کو دُہرایا ہے۔انھوں نے ایک بیان میں خانہ جنگی کا شکار ملک میں حکومت کی فوری تبدیلی پر زور دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بشارالاسد ایک طویل عرصے سے یہی کچھ کہتے چلے آرہے ہیں اور یہ وہی وعدے ہیں جو انھوں نے ہم سے بھی کیے تھے۔شامی صدر اپنے عوام کی نمائندگی کا اختیار کھوچکے ہیں۔اس لیے ان کے الفاظ بھی معانی ومفہوم کھوچکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اب شامی قوم کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے جلد سے جلد عبوری دور کے لیے انتقال اقتدار کے عمل کی تکمیل ہونی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں