.

شامی حزب اختلاف نے صدراسد کا امن منصوبہ مسترد کردیا

''بشارالاسد نےتقریرمیں ماضی کے خالی وعدوں کا اعادہ کیا''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی صدر بشارالاسد کے مخالفین نے ان کی جانب سے بحران کے حل کے لیے اتوار کو پیش کردہ امن منصوبے کو توہین آمیز قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔

حزب اختلاف کے سب سے بڑے گروپ شامی قومی کونسل کے ترجمان ولیدالبنی نے ایک بیان میں کہا کہ ''ہم نے قومی اتحاد کے قیام کے وقت بحران کے سیاسی حل کی بات کی تھی لیکن اب شہادتوں کی تعداد ساٹھ ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔شامیوں نے یہ تمام قربانیاں ایک ظالم حکومت کو دوام دینے کے لیے نہیں دی تھیں''۔

ترجمان نے کہا کہ تقریر میں بنیادی طور پرعالمی برادری کو مخاطب کیا گیا تھا جو شامی عوام کی امنگوں کے مطابق بحران کے سیاسی حل اور اسد رجم کی ظلم واستبداد پر مبنی حکومت کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ''بشارالاسد کسی ایسے اقدام کو قبول نہیں کریں گے جو ان کی حکومت کو استحکام نہ بخشے۔اسی لیے انھوں نے باغیوں کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت کے امکان کو مسترد کردیا ہے''۔

ترجمان کے بہ قول شامی صدر اپنی منشاء کے مطابق مذاکراتی شراکت داروں کا انتخاب چاہتے ہیں۔وہ کسی بھی ایسے اقدام کو قبول نہیں کریں گے جس سے شامی عوام کی اُمنگیں پوری ہوسکتی ہوں یا ان کی حکومت کے خاتمے کی راہ ہموار ہوسکتی ہو''۔

خالی وعدے

درایں اثناء برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے شامی صدر کی تقریر پر ایک ٹویٹر پیغام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اصلاحات کے خالی وعدے کیے ہیں۔ان سے کوئی بھی بے وقوف نہیں بنے گا جبکہ انھوں نے شام کو آگ میں جھونک دیا،لوگوں کو موت اور تشدد کا شکار کیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن نے برسلز میں ایک بیان میں کہا کہ اگر شامی صدر کی تقریر میں کوئی نئی بات ہوتی تو ہم اس کا باریک بینی سے جائزہ لیتے۔ہمارا یہ موقف ہے کہ بشارالاسد اقتدار چھوڑ دیں اور سیاسی انتقال اقتدار کے عمل کو رونما ہونے دیں۔

ترک وزیرخارجہ احمد داؤد اوغلو نے بھی شامی صدر بشارالاسد کی تقریر کو ماضی کے الفاظ کی نقالی قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ شامی صدر نے اپنی تقریر میں خالی وعدوں ہی کو دُہرایا ہے۔انھوں نے ایک بیان میں خانہ جنگی کا شکار ملک میں حکومت کی فوری تبدیلی پر زور دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بشارالاسد ایک طویل عرصے سے یہی کچھ کہتے چلے آرہے ہیں اور یہ وہی وعدے ہیں جو انھوں نے ہم سے بھی کیے تھے۔شامی صدر اپنے عوام کی نمائندگی کا اختیار کھوچکے ہیں۔اس لیے ان کے الفاظ بھی معانی ومفہوم کھوچکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اب شامی قوم کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے جلد سے جلد عبوری دور کے لیے انتقال اقتدار کے عمل کی تکمیل ہونی چاہیے۔