.

صدر مرسی، امریکی صدر سے نابینا عالم دین کی رہائی کا مطالبہ کریں گے

مصری صدر مارچ کے آخر میں دورۂ امریکا پر جائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے صدر محمد مرسی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے آیندہ دورۂ امریکا کے موقع پر صدر براک اوباما سے ملاقات میں مصری نابینا عالم دین شیخ عمر عبدالرحمان کی رہائی کا مطالبہ کریں گے۔

صدر محمد مرسی نے سی این این کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ متوقع طور پر مارچ کے آخر میں امریکا کے دورے پر جائیں گے اور صدر براک اوباما کے ساتھ شیخ عمر عبدالرحمان کا معاملہ اٹھائیں گے۔انھوں نے کہا کہ ان کے دورے کی ابھی حتمی تاریخ کا فیصلہ نہیں کیا گیا لیکن اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ یہ دورہ سال کی پہلی سہ ماہی کے آخری ہفتے میں ہو گا۔

صدر محمد مرسی نے انٹرویو میں اپنا یہ مطالبہ دُہرایا کہ ''میں نابینا عالم دین کی رہائی چاہتا ہوں لیکن میں قانون کا احترام کرتا ہوں اور مصر اور امریکا میں قانون کی حکمرانی کا حامی ہوں''۔ انھوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکا سے شیخ عمر عبدالرحمان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ان کی رہائی کے لیے کوششیں کریں گے۔

انھوں نے انٹرویو میں کہا کہ ''اگر نابینا عالم دین کی رہائی ممکن نہیں تو پھر ان کے خاندان اور بچوں کو ان سے ملنے کی اجازت دے دی جائے''۔ گذشتہ سال ستمبر میں امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے واضح کیا تھا کہ شیخ عمر عبدالرحمان کے ٹرائیل اور عدالت سے ان کو مجرم قرار دیے جانے کے بعدان کی رہائی کا کوئی امکان نہیں۔

صدر مرسی کا کہنا تھا کہ وہ امریکی صدر سے سائنسی تحقیق ،مینوفیکچرنگ ،پیداوار اور سیاحت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔صدر منتخب ہونے کے بعد ان کا امریکا کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔واضح رہے کہ سابق صدر حسنی مبارک کی رخصتی کے بعد سے امریکا اور مصر کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں قدرے سرد مہری آئی ہے اوردونوں کے تعلقات سابق صدر کے دور حکومت والے نہیں رہے ہیں۔

شیخ عمر عبدالرحمان نیویارک میں 1993ء میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر بم حملوں کے الزام میں نوے کے عشرے سے عمرقید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔وہ مصری سلفیوں کی جماعت ''الجماعۃ الاسلامیہ'' کے روحانی پیشوا خیال کیے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ الجماعۃ الاسلامیہ پر 1981ء میں مصر کے سابق صدر انوار السادات کے قتل کے واقعہ میں بھی ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا تھا لیکن یہ جماعت 1997ء میں تشدد سے دستبردار ہو گئی تھی اور فروری 2011ء میں سابق صدر حسنی مبارک کی رخصتی کے بعد اس جماعت نے سیاست میں قدم رکھا تھا۔