.

حکومت مخالف مظاہروں کے بعد عراق کی اردن کے ساتھ سرحد بند

نوری المالکی حکومت کی مظاہرین پر معاشی دباؤ ڈالنے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق میں اہل سنت کے حکومت مظاہروں میں شدت کے بعد وزارت دفاع نے بدھ کی صبح چھے بجے سے کوئی وجہ بتائے بغیر اردن کے ساتھ واقع اپنی سرحدی گذرگاہ کو غیر معینہ مدت کے لیے تاحکم ثانی بند کردیا ہے۔

العربیہ کے نمائندے کی اطلاع کے مطابق اردن کے ساتھ واقع واحد بارڈر کراسنگ طریبیل کو عراقی فوجیوں نے ہرقسم کی آمد ورفت کے لیے مکمل طور پر بند کردیا ہے۔ یہ ایک اہم تجارتی گذرگاہ ہے اور یہ عراق کے مغربی صوبہ الانبار میں واقع ہے۔اس صوبےکی کونسل کے ایک رکن حکمت سلیمان نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے دراصل یہ فیصلہ مظاہرین پردباؤ ڈالنے کے لیے کیا ہے۔

بغداد اوراردن کے دارالحکومت عمان کے درمیان مرکزی شاہراہ پر واقع ایک قصبے رتبہ کے مئیر عماد مشعل نے بھی عراقی حکومت کے فیصلے پر سوال اٹھایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے طریبیل بارڈر کراسنگ کو تو بند کردیا ہے لیکن شام کے ساتھ واقع الولید کراسنگ کو کھلا چھوڑا ہوا ہے۔ان کے بہ قول حکومت مظاہرین کو احتجاج سے باز رکھنے کے لیے اب اقتصادی جنگ مسلط کرنےکی کوشش کررہی ہے۔



عراق کے سنی اکثریتی مغربی صوبہ الانبار میں گذشتہ کئی روز سے ہزاروں افراد ملک میں نافذ انسداد دہشت گردی کے قوانین کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے اور ان میں تبدیلی کا مطالبہ کررہے ہیں جو ان کے بہ قول اہل سنت کو دبانے کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔وہ وزیراعظم نوری المالکی سے بھی مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

اہل سنت نے گذشتہ ماہ وزیرخزانہ رافع العیساوی کے محافظوں کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع کیے تھے۔اب ان کی تحریک طول پکڑ چکی ہے اورانھوں نے حکومت کے خاتمے تک اپنا احتجاج جاری رکھنے کی دھمکی دی ہے۔الانبار میں ہزاروں مظاہرین نے صوبائی دارالحکومت رمادی کے نزدیک عراق کو اردن اور شام سے ملانے والی مرکزی تجارتی شاہراہ پر دھرنا دے رکھا ہے اور اسے ہرقسم کے ٹریفک کی آمدورفت کے لیے بند کررکھا ہے۔البتہ وہ مال بردار ٹرکوں کو رمادی سے ایک متبادل شاہراہ کے ذریعے جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔