.

مصری صدر کی ثالثی میں مشعل، عباس مصالحتی بات چیت

حماس اور فتح میں مصالحت کے لیے مصر کی کوششیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں صدر محمد مرسی کی میزبانی میں فلسطینی صدر محمود عباس اور حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل کے درمیان مصالحتی بات چیت آج بدھ کو ہو رہی ہے۔

صدر مرسی کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی صدر اور حماس کے سربراہ خالد مشعل پہلے مصر کے انٹیلی جنس چیف سے ملاقات کریں گے اور اس کے بعد ان کی صدر مرسی کے ساتھ سہ فریقی بات چیت ہو گی۔

مصری صدر کی جون 2012ء میں منتخب ہونےکے بعد محمود عباس اور خالد مشعل کے ساتھ یہ پہلی ملاقات ہو گی۔ اس سے پہلے فتح کی مصالحتی کوششوں کے نگران عزام الاحمد نے بتایا کہ صدر محمود عباس میزبان صدر محمد مرسی کی دعوت پر مصر کا دورہ کر رہے ہیں۔

مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'مینا' کی اطلاع کے مطابق خالد مشعل اور ان کے معاونین منگل کو دوحہ سے قاہرہ پہنچے تھے۔ واضح رہے کہ گذشتہ سال نومبر میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی جارحیت کے بعد سے دونوں بڑی فلسطینی جماعتیں ایک دوسرے کے قریب آئی ہیں۔ایک مصری عہدے دار نے چند روز قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ فلسطینی دھڑوں کے درمیان آیندہ دو ہفتے میں نئے مذاکرات کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

گذشتہ جمعہ کو حماس کے زیر نگیں غزہ شہر میں ہزاروں فلسطینیوں نے صدر محمود عباس کی جماعت فتح کے اڑتالیسیویں یوم تاسیس کے موقع پر نکالی گئی ریلی میں شرکت کی تھی۔ محمود عباس نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ سے ٹیلی ویژن کے ذریعے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں فلسطینی دھڑوں کے درمیان جلد اختلافات کا خاتمہ ہو جائے گا اور ان میں دوبارہ اتحاد قائم ہو گا۔

گذشتہ پانچ سال کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ فتح نے اپنی حریف اسلامی جماعت حماس کے زیر نگیں شہر میں ریلی نکالی تھی اور اس میں ہر طرف اس جماعت کے زرد رنگ کے پرچم لہراتے نظر آ رہے تھے۔ فتح کو اس مظاہرے کے لیے حماس کی حمایت حاصل تھی۔اس نے اپنی حریف جماعت کو عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی اجازت دے کر فراخ دلی کا مظاہرہ کیا تھا اور اس کے روّیے میں تبدیلی کو فلسطینی دھڑوں کے درمیان اتحاد کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔

حماس اور فتح کے درمیان جون 2007ء سے اختلاف چلے آ رہے تھے۔ تب صدر محمود عباس نے حماس کی قیادت میں قومی اتحاد کی حکومت ختم کردی تھی۔ اس کے بعد حماس نے غزہ کی پٹی میں اپنی الگ حکومت قائم کرلی تھی اور حماس کے تحت سکیورٹی فورسز نے فتح کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مسلح جھڑپوں کے بعد علاقے کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تھا اور صدرعباس کے وفاداروں اور حامیوں کو وہاں سے نکال باہر کیا تھا۔

یاد رہے کہ فتح اور حماس کے درمیان اختلافات کے خاتمے اور غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں ایک ہی حکومت کے قیام کے لیے قاہرہ میں مصر کی ثالثی میں مئی 2011ء میں معاہدہ طے پایا تھا۔ اس میں یہ کہا گیا تھا کہ چھے ماہ کے لیے نئی عبوری حکومت قائم کی جائے گی۔اس عرصے میں وہ انتخابات کی تیاری کرے گی اور اسرائیلی جارحیت سے تباہ حال غزہ کی پٹی کی تعمیر نو پر اپنی توجہ مرکوز کرے گی لیکن اس معاہدے پر آج تک عمل درآمد کی نوبت نہیں آئی۔